جنوبی پشتونخوا سمیت عوامی رابطہ مہم کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے 

کوئٹہ(این این آئی ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کی زیرِ صدارت پارٹی ضلع کوئٹہ کی ضلعی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے مرکزی سینئر سیکرٹری سید قادر آغا ایڈووکیٹ، صوبائی آفس سیکرٹری ندا سنگر، صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز رحمت اللہ صابر، پروفیسر اسد ترین، علی محمد ترین، سلیمان بازئی اور دیگر ضلعی و تنظیمی ذمہ داران نے شرکت کی۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی، تنظیمی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے، عوامی رابطہ مہم کو تیز کرنے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ایک قومی، جمہوری اور عوام دوست سیاسی تحریک ہے، جس کا بنیادی مقصد پشتون عوام کے قومی، سیاسی، معاشی، سماجی اور آئینی حقوق کا تحفظ، جمہوریت اور آئین کی بالادستی کا قیام، وسائل پر عوام کے حقِ ملکیت کو یقینی بنانا اور ایک پرامن، بااختیار اور خوشحال معاشرے کی تشکیل ہے۔ مقررین نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت پارٹی نے جنوبی پشتونخوا سمیت پورے پشتونخوا وطن میں ابتدائی یونٹوں کے قیام، ضلعی، علاقائی اور یونٹ سطح کی کانفرنسوں، تنظیمی اجلاسوں اور عوامی رابطہ مہم کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ پارٹی کا پیغام ہر گاوں، ہر محلے اور ہر گھر تک پہنچایا جا سکے اور عوام کو قومی و جمہوری جدوجہد میں مزید مو ¿ثر انداز میں شریک کیا جا سکے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ صوبہ بلوچستان، بالخصوص پشتونخوا وطن، اس وقت اپنی تاریخ کے نہایت نازک اور تشویشناک دور سے گزر رہا ہے۔ امن و امان کی صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، مسلح جتھوں کی آزادانہ نقل و حرکت، قومی شاہراہوں پر ناکہ بندی، بھتہ خوری اور بے گناہ شہریوں پر حملے معمول بن چکے ہیں، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ اجلاس نے کہا کہ سانح زیارت، سانح? نورک، سانح شاہرگ اور گزشتہ روز ہنہ اوڑک میں مسلح جتھوں کے حملوں سمیت مسلسل پیش آنے والے افسوسناک واقعات اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ صوبے میں ریاستی رٹ شدید کمزور ہو چکی ہے۔ کوئٹہ۔خضدار، کوئٹہ۔نوشکی، کوئٹہ۔سبی، کوئٹہ۔لورالائی اور دیگر اہم قومی شاہراہیں عملاً غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ مسافر، مریض، خواتین، طلبہ، سرکاری ملازمین، مزدور، تاجر اور ٹرانسپورٹر خوف و ہراس کے ماحول میں سفر کرنے پر مجبور ہیں، مگر حکومت نہ ان شاہراہوں کو محفوظ بنانے میں کامیاب ہوئی ہے اور نہ ہی مسلح گروہوں کے خلاف مو ثر اور فیصلہ کن کارروائی کر سکی ہے۔ اجلاس نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ جب ریاست عوام کے جان و مال کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور آئین کے نفاذ میں ناکام ہو جائے تو عوام میں بے چینی اور عدم اعتماد پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ حکومت کی مسلسل ناکامی نے عوام میں یہ احساس مزید گہرا کر دیا ہے کہ امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ اور موثر اقدامات نہیں کیے جا رہے، جس کے باعث لوگ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ آج پشتونخوا وطن کے عوام ایک نہیں بلکہ متعدد بحرانوں کا شکار ہیں۔ ایک جانب دہشت گردی، بدامنی اور عدم تحفظ نے معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے ہیں، جبکہ دوسری جانب بے روزگاری، مہنگائی، غربت، بجلی اور گیس کی طویل لوڈشیڈنگ، تعلیم اور صحت کے شعبوں کی زبوں حالی، ترقیاتی منصوبوں کی بندش، قدرتی وسائل کی بے دریغ لوٹ مار اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع سے محروم رکھنے کی پالیسیوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ نوجوان مایوسی، بے روزگاری اور ہجرت پر مجبور ہیں، جبکہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے بجائے نمائشی اقدامات اور سیاسی انتقامی طرزِ عمل میں مصروف ہے۔ اجلاس نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے تمام واقعات کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے اصل حقائق اور ذمہ دار عناصر کو عوام کے سامنے

 لایا جائے، قومی شاہراہوں پر شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے، تمام مسلح جتھوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، لاپتہ افراد کے مسئلے کو آئین اور قانون کے مطابق حل کیا جائے اور بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سیاسی قوتوں، منتخب نمائندوں اور مقامی آبادی کو اعتماد میں لے کر جامع اور مو ¿ثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔ اجلاس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی دہشت گردی، انتہاپسندی، جبر، غیر آئینی اقدامات، وسائل کی لوٹ مار، قومی حقوق پر ہر قسم کے ڈاکے، عوام دشمن پالیسیوں اور جمہوری اقدار پر حملوں کے خلاف اپنی آئینی، جمہوری اور سیاسی جدوجہد ہر قیمت پر جاری رکھے گی۔ پارٹی پشتون عوام کے قومی حقوق، امن، انصاف، جمہوریت، آئین کی بالادستی، انسانی حقوق اور وسائل پر عوام کے حقِ ملکیت کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد کو مزید منظم، مو ¿ثر اور وسیع کرے گی اور ہر سطح پر عوام کی توانا آواز بن کر اپنا تاریخی کردار ادا کرتی رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *