جمعیت علماء اسلام کوئٹہ نے ضلع بھر کی مختلف یونٹوں کے تنظیمی دوروں اور جائزہ اجلاسوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا

کوئٹہ (ویب ڈیسک)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمن رفیق کی ہدایت اور ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس کی نگرانی میں ضلع بھر کی مختلف یونٹوں کے تنظیمی دوروں اور جائزہ اجلاسوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تشکیل دی گئی مختلف کمیٹیوں نے متعلقہ یونٹوں کا دورہ کیا اور کارکنوں، ذمہ داران اور مقامی تنظیموں کے اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے تنظیمی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔اجلاسوں میں یونٹوں کی مجموعی کارکردگی، تنظیمی ڈھانچے، عاملہ اور شوریٰ کی فعالیت، کارکنوں کے باہمی روابط، رکن سازی، عوامی رابطہ مہم، درپیش مسائل اور آئندہ کے تنظیمی اہداف پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹیوں نے مختلف یونٹوں کی کارکردگی کو مجموعی طور پر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے تنظیمی کمزوریوں کے ازالے، کارکنوں کی مزید تربیت اور عوامی سطح پر جماعت کے پیغام کو مؤثر انداز میں پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سرپرست اعلیٰ مفتی محمد روزی خان، حاجی بشیر احمد کاکڑ، مولانا محمد ایوب، مولانا محب اللہ، مولانا عبدالبصیر، مولانا محمد شعیب جدون، عبدالصمد حقیار، مولانا علی جان، حاجی قاسم خان خلجی، خسیٹھ اجمل بازئی، مولنا نقیب اللہ ملاخیل، حاجی عطاء محمد شمشوزئی نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ اپنی مضبوط تنظیم، منظم ڈھانچے، باصلاحیت قیادت اور متحرک کارکنوں کی بدولت ضلع کی ایک فعال، منظم اور عوامی جماعت کے طور پر نمایاں مقام رکھتی ہے۔ جماعت نے ہر مشکل مرحلے میں عوام کی آواز بن کر کردار ادا کیا ہے اور تنظیمی استحکام ہی اس کی اصل قوت ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں جمعیت علماء اسلام نے شاندار عوامی حمایت حاصل کرتے ہوئے کلین سویپ کیا تھا، تاہم بدقسمتی سے بلدیاتی انتخابات
ملتوی کر دیے گئے، جس کے باعث عوام اپنے منتخب نمائندوں سے محروم رہ گئے۔ اس کے باوجود جماعت نے عوامی خدمت، تنظیمی فعالیت اور سیاسی جدوجہد کا سفر پوری ذمہ داری کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے۔مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع کی تمام یونٹوں کو مزید مضبوط، متحرک اور فعال بنایا جائے گا، تاکہ جماعت کا پیغام ہر گھر تک پہنچے اور کارکنان عوامی مسائل کے حل میں پہلے سے بڑھ کر کردار ادا کریں۔ انہوں نے تمام ذمہ داران اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ باہمی اتحاد، نظم و ضبط اور اخلاص کے ساتھ تنظیمی ذمہ داریاں ادا کریں اور جماعت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *