جمعیت علماء اسلام کسی ایک قوم، قبیلے، زبان یا طبقے کی جماعت نہیں بلکہ ملک کے چاروں صوبوں میں یکساں عوامی پذیرائی رکھنے والی وفاقی اور نظریاتی سیاسی قوت ہے،مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(ویب ڈیسک)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع اور صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام کسی ایک قوم، قبیلے، زبان یا طبقے کی جماعت نہیں بلکہ ملک کے چاروں صوبوں میں یکساں عوامی پذیرائی رکھنے والی وفاقی اور نظریاتی سیاسی قوت ہے، جو پاکستان کے طول و عرض میں عوام کے حقوق، آئین کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام اور وفاق کی مضبوطی کی علمبردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے اجتماعی، آئینی، سیاسی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے جمعیت علماء اسلام کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ صوبے کے وسائل پر صوبے کے حق، ریکوڈک منصوبے میں بلوچستان کے مفادات، ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے حصول، صوبائی خودمختاری کے فروغ اور آئین کی اٹھارویں ترمیم جیسے تاریخی قومی اقدامات میں جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ قائدانہ، اصولی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ یہ کامیابیاں محض سیاسی نعرے نہیں بلکہ طویل، مسلسل اور انتھک جدوجہد کا ثمر ہیں، جنہوں نے وفاق اور صوبوں کے درمیان آئینی توازن کو مضبوط کیا اور بلوچستان کے حقوق کے تحفظ کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی جمعیت علماء اسلام ہر قسم کے سیاسی دباؤ، مخالفت اور سیاسی قیمت ادا کرنے کے باوجود بلوچستان کے حقوق کا مقدمہ پوری جرات، استقامت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ لڑ رہی ہے۔ صوبے کے وسائل، عوامی حقوق، آئینی اختیارات، امن و امان، روزگار، تعلیم اور ترقی کے ہر معاملے پر جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ واضح، دوٹوک اور اصولی مؤقف اختیار کیا ہے اور آئندہ بھی کسی قسم کی مصلحت کا شکار نہیں ہوگی۔ رہنماؤں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام آج بلوچستان کے طول و عرض میں ہر ضلع، ہر تحصیل اور ہر علاقے میں عوام کی بھرپور نمائندہ اور صوبے کی سب سے بڑی عوامی و سیاسی قوت بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے عوام اپنے مسائل، محرومیوں اور حقوق کے تحفظ کے لیے جمعیت علماء اسلام پر اعتماد کرتے ہیں، کیونکہ اس جماعت نے ہمیشہ ہر قوم، ہر قبیلے اور ہر طبقے کے حقوق کی بلاامتیاز آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے موجودہ امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اس وقت اپنی تاریخ کے نہایت نازک اور سنگین دور سے گزر رہا ہے۔ عوام عدم تحفظ، بدامنی، دہشت گردی، اغوا، ٹارگٹ کلنگ، بے یقینی اور معاشی مشکلات کے گرداب میں گھرے ہوئے ہیں جبکہ حکومتی رٹ عملاً ریڈ زونز اور سرکاری دفاتر تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومتی ذمہ داران اپنی ذاتی سکیورٹی اور پروٹوکول کے حصار سے باہر نکلنے کے بجائے عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ چکے ہیں، جس کے باعث عام شہری خود کو بے یار و مددگار محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام، خصوصاً نوجوانوں اور بچوں کے آئینی، تعلیمی، معاشی اور انسانی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ جمعیت علماء اسلام صوبے کی تمام اقوام، قبائل اور طبقات کے حقوق کو ایک مشترکہ قومی امانت سمجھتی ہے اور ہر فورم پر بلاامتیاز ان کا مقدمہ لڑتی رہے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی موجودہ سنگین صورتحال کے تناظر میں جلد آل پارٹیز کانفرنس (APC) منعقد کرے گی، جس میں تمام سیاسی، مذہبی، سماجی اور قومی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے صوبے کے امن، عوامی حقوق، آئینی بالادستی اور سیاسی استحکام کے لیے مشترکہ لائح? عمل اور مؤثر جدوجہد کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے عوام کے حقوق، وسائل، شناخت، آئینی اختیارات، امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی جدوجہد ہر قیمت پر جاری رکھے گی اور کسی بھی دباؤ یا مصلحت کو عوامی مفادات پر ترجیح نہیں دے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *