جرمنی نے طالبان حکومت کے بعد پہلی بار مجرمانہ ریکارڈ کے بغیر افغانی کو ملک بدر کر دیاسیاسی پناہ کا دعویٰ ختم ہو جانے کے بعد اس شخص کی ملک بدری ضروری ہو گئی تھی،جرمن وزیرداخلہ

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) وزیرِ وزیرِ علیگزی ڈوبرینڈ نے کہا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جرمنی نے پہلی بار مجرم کو ریکارڈ کرنے کے لیے بغیر کسی افغان ملک کو ملک بدر کرنے کے لیے اپنی مرضی کے مطابق سیاسی دعویٰ ختم کرنے کے بعد اس شخص کی بدری کی ضرورت پڑی لیکن کسی دوسرے ملک میں آباد ہونے کی کوشش کی گئی تھی لیکن وہاں قانونی طور پر مقیم نہیں۔ واپس جرمنی منتقل کرنے کے بعد اسے افغانستان بھیج دیا گیا، یہ شخص ان 31 افغان آدمیوں میں شامل تھا گزشتہ روز ہوائی جہاز کے ذریعے ملک بدر کیا تھا۔ دیگر 30 کو مجرمانہ سزائیں سنائی افغانسان پر 2021 میں طالبان کے قبضے کے افغانیوں کی ملک بدریسہ میں چل رہی ہے جس میں انسانی حقوق اور واپس لوٹنے کے ساتھ بدلوکی کے علاقے کے بعد افغانستان ملک بدری دوبارہ شروع ہونے کے بعد جرمنی سے 200 افراد کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی کے مطابق ملک بدری کے بعد کم از کم ایک شخص کا رابطہ ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *