Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت جو کچھ بھی کرتی ہے وہ صرف بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کے لیے کرتی ہے ضلع سوراب میں خواتین، بچوں سمیت درجنوں افراد کو شہید کرنا ظلم کی انتہا ہے بلوچستان نیشنل پارٹی اس واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے واقعہ کے خلاف 16 اگست کو بلوچستان بھر میں احتجاج اور مظاہرے کیے جائیں گے۔یہ بات انہوں نے بد ھ کوئٹہ پریس کلب میں بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، مرکزی سیکریٹری فائنانس اختر حسین لانگو، مرکزی لیبر سیکریٹری موسیٰ بلوچ، پروفیشنل سیکرٹری رمضان بلوچ، بی ایس او مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین غلام نبی مری، چیئرمین واحد بلوچ، چیئرمین جاوید بلوچ، میر مقبول لہڑی، ٹکری شفقت لانگو، شمائلہ اسماعیل سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے ‘سوراب’ اور لاپتہ افراد سمیت بلوچستان کے دیگر مسائل پر سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں فیکٹ فائنڈنگ کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتی ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی اس ظلم کی شدید مذمت کرتی ہے اور یہ بات واضح کرتی ہیں کہ ایسے اقدامات سے نفرت میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 26ویں ترمیم کے بعد، موجودہ جج اب محض موجودہ حکومت کے ملازم بن کر رہ گئے ہیں ‘فارم 47’ کے وزیراعلیٰ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں صورتحال مستحکم ہے، تو پھر بلوچستان کے ہر حصے میں کرفیو کیوں ہے؟ آج کے حکمران ایک بار پھر بلوچستان کے مسئلے کو ایسی نہج پر لے جا رہے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوں۔ بی این پی نے ہمیشہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جاری جبر کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے، طاقت کے ذریعے نہیں۔ گزشتہ 75 سالوں سے بلوچوں اور پشتونوں کو صرف ان کے قدرتی وسائل کی وجہ سے لاشیں ہی مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وڈھ اور مستونگ میں بھی کچھ واقعات پیش آئے ہیں، ان کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ایسے اقدامات کے بعد لوگ پوچھتے ہیں کہ بلوچستان کی صورتحال کیوں بگڑتی جا رہی ہے۔ 16 اگست کے احتجاج کے بعد، پارٹی ایک مرکزی اجلاس بلائے گی جس میں مستقبل کے احتجاج کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی، سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ہر قسم کے جبر اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف اپنی سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔ بلوچستان حکومت جو کچھ بھی کرتی ہے وہ صرف بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کے لیے کرتی ہے،اسلام آباد کی جانب سے بلوچستان کے ساتھ ہمیشہ ایک کالونی جیسا سلوک کیا گیا ہے بلوچستان کے عوام موت قبول کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اپنی سرزمین چھوڑنے کے لیے نہیں