ایڈوانس ٹیکس کے خلاف دالبندین کے میڈیکل اسٹورز مالکان سراپا احتجاج

دالبندین(این این آئی) ایڈوانس ٹیکس کے خلاف دالبندین کے میڈیکل اسٹورز مالکان سراپا احتجاج ، ٹوکن ہڑتال ، تمام میڈیکل اسٹورز احتجاجاً بندکردیاتفصیلات کے مطابق میڈیکل اسٹور ایسوسی ایشن چاغی کے ضلعی صدر قائم خان بڑیچ کی قیادت میں دالبندین کے میڈیکل اسٹورز مالکان کا دالبندین پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس جس میں ضلعی کابینہ کے اراکین میر نورالحق سنجرانی، کیکا رام، شعیب احمد بڑیچ ، ہنس راج، ریمبو کمار ، انجمن تاجران کے صدر حاجی محمد آغا محمد حسنی، ڈاکٹر محمد اکرم بڑیچ ، ہنس راج ، دیرج کمار، جیپال داس ، عبدالوہاب جمالدینی ، سبحان شاہ سمیت دیگر بھی موجود تھے اس موقع پر قائم خان بڑیچ نے کہا ایف بی آر کی جانب سے ادویات پر عائد ایڈوانس ٹیکس کی شدید مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں میڈیکل اسٹور مالکان نے اس اہم مسئلے پر ڈپٹی کمشنر چاغی سے ملاقات کرکے انہیں مکمل بریفنگ دی تھی، جس پر ڈپٹی کمشنر نے مثبت ردِعمل دیتے ہوئے متعلقہ فورمز پر یہ مسئلہ اٹھانے اور اس کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس کے باوجود ایف بی آر اس مسئلے پر نظرثانی یا کوئی مو ¿ثر پیش رفت کرنے کے لیے تیار نہیں، جو متعلقہ ادارے کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ضلع چاغی ایک قبائلی (ٹرائبل) علاقہ ہے، جہاں شروع سے ہی ایڈوانس ٹیکس کا نفاذ نہیں رہا۔ اس لیے چاغی میں ایڈوانس ٹیکس کا اطلاق غیر منصفانہ ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ضلع چاغی کی قبائلی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں سے ایڈوانس ٹیکس فوری طور پر ختم کیا جائے۔شرکاء نے کہا کہ گذشتہ تقریباً 20 دنوں سے ضلع بھر میں ادویات کی سپلائی بند ہے، جس کے باعث مریضوں کو زندگی بچانے والی ادویات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے اور فوری توجہ کی متقاضی ہے۔آخر میں میڈیکل اسٹور ایسوسی ایشن چاغی نے ایک بار پھر ڈپٹی کمشنر چاغی سے اپیل کی کہ وہ اس اہم عوامی مسئلے کے حل کے لیے مو ¿ثر کردار ادا کریں اور متعلقہ حکام کے ذریعے ضلع چاغی سے ایڈوانس ٹیکس کے خاتمے کو یقینی بنائیں تاکہ ادویات کی سپلائی بحال ہو سکے اور عوام کو ریلیف ملے۔پریس کانفرنس کے دوران کہا گیا کہ اگر اس مسئلے کا فوری اور منصفانہ حل نہ نکالا گیا تو میڈیکل اسٹور ایسوسی ایشن احتجاج سمیت دیگر آئینی اور قانونی آپشنز پر غور کرنے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری ایف بی آر اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔علاو ¿ہ ازیں میڈیکل اسٹورز ایسوسی ایشن کی جانب سے ٹوکن ہڑتال کی گئی جس کے سبب دالبندین میں احتجاجاً تمام میڈیکل اسٹورز بند رکھے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *