اٹھارہویں آئینی ترمیم پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل تھی, حاجی شعیب علی خان لہڑی

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان کے قبائلی و سیاسی رہنماحاجی شعیب علی خان لہڑی نے کہا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل تھی اس ترمیم کا بنیادی مقصد اختیارات کو وفاق سے صوبوں کی جانب منتقل کرنا تھا تاکہ صوبے اپنے عوام کی ضروریات، ترجیحات اور مقامی مسائل کے مطابق بہتر فیصلے کر سکیں اسی مقصد کے تحت صوبوں کو تعلیم، صحت، سماجی بہبود اور دیگر اہم شعبوں میں زیادہ اختیارات اور مالی وسائل فراہم کیے گئے تاکہ عام شہری کی زندگی کے معیار میں نمایاں بہتری لائی جا سکے تاہم اگر ہم 2010 کی صورتحال کا آج کے حالات سے موازنہ کریں تو ایک اہم سوال ہمارے سامنے آتا ہے کہ کیا ان اضافی اختیارات اور وسائل کے نتیجے میں واقعی عوام کی زندگی میں وہ مثبت تبدیلی آئی جس کی توقع کی جا رہی تھی؟۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں حاجی شعیب علی خان لہڑی نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ بعض شعبوں میں محدود پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن مجموعی طور پر تعلیم، صحت اور دیگر سماجی شعبوں میں وہ انقلابی تبدیلی نظر نہیں آتی جس کا وعدہ کیا گیا تھا آج بھی پاکستان میں صوبوں کے درمیان ترقی کا واضح فرق موجود ہے بعض صوبے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں جبکہ کچھ صوبے بنیادی سہولیات کی فراہمی میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ ہر صوبے کے اندر بھی ترقی یکساں نہیں شہری علاقوں میں نسبتاً بہتر تعلیمی ادارے، اسپتال، سڑکیں اور دیگر سہولیات موجود ہیں جبکہ دیہی اور دور دراز علاقوں کے لاکھوں شہری آج بھی معیاری تعلیم، بنیادی صحت کی سہولیات، صاف پانی اور دیگر بنیادی حقوق سے محروم ہیں اسی طرح خواتین اور مردوں کے درمیان تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر سماجی مواقع تک رسائی میں بھی نمایاں فرق موجود ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ترقی کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک یکساں طور پر نہیں پہنچ سکے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق نے تو اپنے اختیارات اور وسائل صوبوں کو منتقل کر دیے، لیکن اکثر صوبوں نے انہی اختیارات اور وسائل کو مو ¿ثر انداز میں مقامی حکومتوں تک منتقل نہیں کیا نتیجتاً اختیارات چند اداروں یا افراد تک محدود رہے جبکہ مقامی سطح پر عوامی نمائندے اور بلدیاتی ادارے وہ کردار ادا نہ کر سکے جس کے لیے انہیں قائم کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب فیصلے عوام کے قریب نہیں ہوں گے، مقامی حکومتیں مالی اور انتظامی طور پر بااختیار نہیں ہوں گی اور وسائل کی تقسیم شفاف اور منصفانہ نہیں ہوگی تو عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی بھی ممکن نہیں ہوگی یہی وجہ ہے کہ کئی ترقیاتی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود ان کے نتائج عوام کی زندگی میں واضح بہتری کی صورت میں نظر نہیں آتے۔انہوں نے کہا کہ کیا ہمیں مزید چھوٹے صوبے بنانے چاہئیں تاکہ انتظامی امور زیادہ مو ¿ثر انداز میں چلائے جا سکیں؟ یا موجودہ صوبائی نظام کو مضبوط کرتے ہوئے ایک ایسا بااختیار، آئینی تحفظ یافتہ اور مالی طور پر خودمختار بلدیاتی نظام قائم کرنا چاہیے جو عوام کے قریب ہو اور ان کے مسائل فوری طور پر حل کر سکے؟میری رائے میں صرف نئے صوبے بنا دینا تمام مسائل کا حل نہیں اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اختیارات، وسائل اور فیصلہ سازی کو حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقل کیا جائے مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ دیا جائے، انہیں مستقل مالی وسائل فراہم کیے جائیں، اور ان کی کارکردگی کو شفاف نگرانی، مو ¿ثر احتساب اور جدید گورننس کے اصولوں کے تحت یقینی بنایا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں واضح اہداف مقرر کیے جائیں، فنڈز کے استعمال کی باقاعدہ نگرانی کی جائے، اور ہر سرکاری ادارے کو اپنی کارکردگی کے لیے عوام کے سامنے جوابدہ بنایا جائے۔ جب تک وسائل کو نتائج سے نہیں جوڑا جائے گا، اس وقت تک عوام کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لانا مشکل رہے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم نے اختیارات کی منتقلی کا ایک اہم دروازہ ضرور کھولا، لیکن اس سفر کو مکمل کرنے کے لیے اختیارات اور وسائل کو صوبوں سے آگے مقامی حکومتوں تک منتقل کرنا، شفاف احتساب کو یقینی بنانا، اور عوامی خدمت کو حکمرانی کا بنیادی مقصد بنانا ناگزیر ہےاگر ہم واقعی ایک خوشحال، ترقی یافتہ اور مساوی پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں ایسی حکمرانی کی ضرورت ہے جس میں اختیارات بھی عوام کے قریب ہوں، وسائل بھی منصفانہ تقسیم ہوں، اور ہر شہری، خواہ وہ کسی بھی صوبے، ضلع، شہر یا گاو ¿ں سے تعلق رکھتا ہو، یکساں مواقع اور بنیادی سہولیات حاصل کر سکے۔ یہی مضبوط وفاق، مضبوط صوبوں اور بااختیار مقامی حکومتوں پر مبنی پاکستان کی ضمانت ہے محسن نقوی کی جانب سے نئے، چھوٹے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی تجویز بھی اسی تناظر میں دی گئی تھی۔ لہٰذا ہمیں محض محسن نقوی کی ذات پر تنقید کرنے یا ان کی کردار کشی اور کارکردگی کو نشانہ بنانے کے بجائے اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنا چاہیے اور اس کا مثبت، عملی اور دیرپا حل تلاش کرنا چاہیے۔ دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم مسائل سے لڑنے کے بجائے ان کے بروقت، مو ¿ثر اور پائیدار حل کی طرف پیش رفت کریں، کیونکہ قوموں کی ترقی اختلافات بڑھانے سے نہیں بلکہ مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں سے ممکن ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *