Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

کوئٹہ (ویب ڈیسک)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینیئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، مولانا محب اللہ، مولانا محمد ایوب، شیخ مولانا عبدالاحد محمد حسنی، مولانا سعید احمد، حافظ سراج الدین، مفتی محمد روزی خان بادیزئی، مولانا محمد شعیب جدون، رحیم الدین ایڈووکیٹ اور مولانا محمد عارف شمشیر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ آئے روز نیٹ سروس، موبائل سروس اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا ناکام حکومت کی واضح عکاسی کرتا ہے، سہولیات سے محرومی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے،موجودہ دور میں انٹرنیٹ محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ تجارت، روزگار، صحافت، تعلیم،آن لائن کاروبار اور روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے، اس کے باوجود بار بار نیٹ سروس کی بندش سے تعلیمی اداروں، تاجروں، صحافیوں، وکلاء، کاروباری افراد اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، حکومت عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے بجائے آئے روز نئی پابندیوں اور بندشوں کے ذریعے بلیک میل کرنے کا وطیرہ ترک کرے، امن و امان کے نام پر پورے صوبے کے عوام کو اجتماعی سزا دینا کسی صورت قابل قبول نہیں، اگر کسی مخصوص علاقے میں سیکیورٹی کے حقیقی خدشات ہوں تو حکومت کو قانون و آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے محدود اور عارضی اقدامات کرنے چاہئیں، پورے صوبے یا بڑے علاقوں میں بلاجواز انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کرنا عوامی مشکلات میں اضافہ کرنے کے مترادف ہے، رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی پسماندگی، بے روزگاری، غربت، بدامنی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، ایسے حالات میں مواصلاتی سہولیات کی بندش سے عوام میں احساس محرومی مزید بڑھ رہا ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کا مستقل اور قابلِ عمل حل تلاش کرے اور محض وقتی پابندیوں کے ذریعے حالات کو کنٹرول کرنے کی کوشش نہ کرے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں بلاجواز انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی بندش فوری طور پر ختم کی جائے، جہاں کسی ناگزیر وجہ سے سروس متاثر ہو وہاں عوام کو وجوہات سے آگاہ کرتے ہوئے کم سے کم وقت میں سروس بحال کی جائے، جمعیت