Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
واشنگٹن (این این آئی)ایک امریکی رپورٹ نے ذرائع اور ماہرین کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اگر ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی راستہ ناکام ہو جاتا ہے، تو امریکہ ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات کے اندر موجود غنی شدہ یورینیم کے ذخیرے پر قبضہ کرنے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر خصوصی فوجی آپریشن کرنے کے آپشن پر غور کر رہا ہے۔ امریکی اخبارکی رپورٹ کے مطابق امریکی سپیشل آپریشنز فورسز اس کاٹ دار آپریشن کی تیاری میں ہیں جسے کچھ ماہرین نے تاریخ کا سب سے پیچیدہ فوجی آپریشن قرار دیا ہے کیونکہ اس مشن کے لیے ایرانی سر زمین کے اندر وسیع لاجسٹک اور سکیورٹی تعاون کی ضرورت ہوگی۔سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے نائب ڈائریکٹر جوزف راجرز کا کہنا تھا کہ فوجی آپشن موجودہ ایرانی جوہری مواد سے چھٹکارا حاصل کرنے کا سب سے زیادہ امکان رکھنے والا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مذاکرات میں تیزی سے پیش رفت نہیں ہو رہی۔ رپورٹ میں ملٹری پلاننگ سے واقف ایک باخبر ذریعہ کے حوالے سے وضاحت کی گئی ہے کہ اس منصوبے کے تحت جوہری تنصیبات کے ارد گرد سکیورٹی فراہم کرنے، رکاوٹوں اور دھماکہ خیز مواد کو ہٹانے اور محفوظ راہداریوں کو کھولنے کے لیے ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کے بعد سپیشل فورسز کی چھوٹی ٹیمیں افزودہ یورینیم تک پہنچنے اور اسے ایران سے باہر منتقل کرنے کا کام سنبھالیں گی۔ذریعہ نے مزید کہا کہ یہ آپریشن حد درجے خطرناک ہوگا راجرز نے کہا اگرچہ ایرانی فوجی صلاحیتوں میں کمی آئی ہے تاہم جنگی ماحول کی نوعیت اور محفوظ تنصیبات کی وجہ سے یہ لاجسٹک لحاظ سے سب سے پیچیدہ آپریشنز میں سے ایک ہوگا۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اس آپریشن میں حصہ لینے والے دستوں میں سیل ٹیم 6 کے ارکان، رینجرز کی دوسری بٹالین اور خطرناک مواد اور بارود سے نمٹنے والی 21 ویں کمپنی شامل ہو سکتی ہے۔ یہ کمپنی افزودہ یورینیم سے نمٹنے اور اسے منتقل کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔