Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

تہران(انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز ایجنسیاں)آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باوجود بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیشتر جہاز امریکی دبا کے مقابلے میں ایران کو ناراض کرنے سے زیادہ گریز کر رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعوی ہے کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت پر کنٹرول رکھتی ہے جبکہ ایران کا مقف ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر نہیں سکتا۔امریکا نے ایرانی بندرگاہوں سے منسلک جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی بھی قائم کر رکھی ہے۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جنگ سے پہلے جہاز آبنائے ہرمز کے مرکزی اور طے شدہ بحری راستوں سے گزرتے تھے تاہم موجودہ کشیدگی کے بعد یہاں 2 نمایاں راستے بن گئے ہیں۔ایرانی راستہ ایران کے ساحل، لارک اور قشم جزائر کے قریب سے گزرتا ہے جبکہ عمانی راستہ عمان کے قریب اور ایرانی ساحل سے نسبتا دور ہے، امریکا تجارتی جہازوں کو عمانی راستہ اختیار کرنے پر زور دے رہا ہے۔سمندری نگرانی کے ادارے کیپلر کے مطابق 1 اگست سے 19 اگست تک تیل، مائع پیٹرولیم گیس اور مائع قدرتی گیس لے جانے والے 112 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔ان میں سے 21 جہازوں نے کھلے عام ایرانی راستہ اختیار کیا جبکہ صرف 2 نے عمانی راستہ استعمال کیا، باقی 89 جہازوں نے اپنے راستے خفیہ رکھے یا ایسے راستوں سے گزرے جن کی واضح شناخت نہیں ہو سکی۔رپورٹ کے مطابق تمام اقسام کے مال بردار جہازوں کو شامل کیا جائے تو اسی عرصے میں مجموعی طور پر 236 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، ان میں سے 83 نے ایرانی راستہ، صرف 3 نے عمانی راستہ اور 2 نے جنگ سے پہلے استعمال ہونے والا مرکزی راستہ اختیار کیا جبکہ 148 جہازوں نے اپنے راستے چھپا لیے۔جنگ شروع ہونے کے بعد ایران اور امریکا دونوں نے ان جہازوں کو نشانہ بنایا ہے جن پر ان کے مقررہ راستوں یا بحری اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا۔اسی وجہ سے کئی جہاز اپنے خودکار شناختی نظام کو بند کر رہے ہیں تاکہ ان کی درست پوزیشن اور نقل و حرکت فوجی نگرانی سے اوجھل رہے۔عرب میڈیا کی رپورٹ میں ماہرین کا اپنی رائے میں کہنا ہے کہ بعض جہازوں کے لیے اس اقدام سے حاصل ہونے والے تجارتی اور حفاظتی فوائد، سمندری نگرانی اور شفافیت کے خطرات سے زیادہ اہم ہیں۔8 اگست کو متحدہ عرب امارات نے ایران پر الزام لگایا کہ اس نے ابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے ایک ٹینکر کو میزائل سے نشانہ بنایا۔کمپنی کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد اس کے 15 جہاز میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں جن میں 1 عملے کا رکن ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔گزشتہ ماہ امریکا نے ایران کے خارگ جزیرے کی جانب جانے والے ایک تیل بردار جہاز پر فائرنگ کی، 11 اگست کو امریکی فوج نے پاناما کے پرچم والے مال بردار جہاز ویلا نووا پر 2 میزائل داغنے کی تصدیق کی اور کہا کہ جہاز ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا تھا کہ بعض خلیجی ممالک، جن میں سعودی عرب، عراق اور کویت شامل ہیں، اپنے تیل اور دیگر سامان کو عمانی راستے سے بھیجنے کے لیے جہازوں کی نگرانی کا نظام بند کر رہے ہیں، بعض صورتوں میں سمندر کے درمیان ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں سامان منتقل کیا جا رہا ہے۔ایرانی جہاز بھی امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی سے بچنے کے لیے عمانی راستہ استعمال کر رہے ہیں، بعض صورتوں میں سامان عمان منتقل کر کے اس کی دستاویزات تبدیل کی جاتی ہیں تاکہ اسے عمانی برآمدات کے طور پر ظاہر کیا جا سکے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیپلر کے اعداد و شمار سے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا حتمی فیصلہ ممکن نہیں کیونکہ زیادہ تر جہازوں نے اپنی نقل و حرکت خفیہ رکھی ہوئی ہے تاہم دستیاب معلومات سے ایک اہم اشارہ ضرور ملتا ہے۔امریکی بحری ناکہ بندی اور دنیا کی طاقت ور ترین بحریہ کی موجودگی کے باوجود توانائی لے جانے والے تقریبا 20 فیصد جہاز کھلے عام ایرانی راستے سے گزرے ہیں۔تمام مال بردار اور کیمیائی سامان لے جانے والے جہازوں کو شامل کیا جائے تو تقریبا 35 فیصد جہازوں نے ایرانی راستہ استعمال کیا۔اس کے برعکس صرف 2 توانائی بردار جہاز اور مجموعی طور پر 4 جہاز ایسے تھے جنہوں نے ایران کی جانب سے تجویز کردہ راستے کے بجائے دوسرے راستوں کو کھلے عام اختیار کیا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحری جہاز امریکا کے مقابلے میں ایران کو ناراض کرنے سے زیادہ خوفزدہ ہیں۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا تھا کہ فی الحال ایران آبنائے ہرمز پر اپنا نمایاں اثر و رسوخ برقرار رکھے ہوئے ہے اور بحری آمد و رفت میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم متبادل رسد کے راستوں، سمندر میں جہازوں کے درمیان سامان کی منتقلی اور علاقائی بحری سیکیورٹی کے اقدامات میں اضافے سے ایران کا دبا مکمل یا غیر محدود نہیں رہا۔آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے دنیا کا تقریبا 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ تھا اور روزانہ تقریبا 130 جہاز یہاں سے گزرتے تھے، اس کے مقابلے میں اگست کے پہلے 19 دنوں میں صرف 236 جہاز یہاں سے گزرے۔ایران نے مارچ کے آغاز میں آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا اور صرف اپنے لیے دوست قرار دیے جانے والے چند ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، 17 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کے بعد صورتِ حال میں کچھ نرمی آئی تاہم آبنائے ہرمز اب بھی جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کا اہم تنازع ہے۔امریکی ناکہ بندی اور ایران کی جانب سے بحری آمد و رفت پر دبا نے عالمی توانائی کے بحران کو مزید سنگین کیا ہے۔جنگ سے پہلے برینٹ خام تیل تقریبا 66 ڈالرز فی بیرل تھا جو جنگ کے دوران کئی مرتبہ 100 ڈالرز سے تجاوز کر گیا اور مارچ میں 119 ڈالرز تک جا پہنچا تھا۔جنگ بندی اور جون میں امریکا ایران مفاہمت کے بعد قیمت میں نمایاں کمی آئی تھی تاہم حالیہ کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے سے برینٹ خام تیل جمعرات کی صبح تقریبا 92.9 ڈالرز فی بیرل پر پہنچ گیا۔ماہرین کے مطابق اگر ایران کا آبنائے ہرمز میں اثر و رسوخ کم ہوتا دکھائی دیا تو مذاکرات میں اس کا ایک اہم دبا کا ذریعہ بھی کمزور ہو سکتا ہے۔