مجھ سمیت کئی کھلاڑیوں کو فلسطین کی حمایت کا یہ انجام دیکھنا پڑا کہ اسپانسرشپ کھو دی

داغستان(سپورٹس ڈیسک) سابق روسی پروفیشنل مکسڈ مارشل آرٹسٹ خبیب نورماگومیدوف نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے سمیت کئی کھلاڑیوں کو فلسطین کی حمایت کا یہ انجام دیکھنا پڑا کہ انھوں نے اسپانسرشپ کھو دی۔روس کے داغستان سے تعلق رکھنے والے سابق یو ایف سی لائٹ ویٹ چیمپئن خبیب نورماگومیدوف نے انکشاف کیا کہ فلسطین اور غزہ کے حق میں عوامی طور پر آواز اٹھانے پر انھیں اور بعض دیگر معروف فائٹرز کو اسپانسرشپ اور تجارتی معاہدوں کے حوالے سے مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ایک حالیہ گفتگو میں خبیب نے کہا کہ بعض اسپانسرز ایسے کھلاڑیوں کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتے جو فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض معاملات میں کھلاڑیوں کی جانب سے فلسطین کے بارے میں صرف کوئی بیان دینے یا سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے بعد بھی معاہدے منسوخ کر دیے گئے۔خبیب نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ان تک محدود نہیں رہا بلکہ یو ایف سی ویلٹر ویٹ چیمپئن اسلام مخاچیف اور ان کے ساتھی عثمان نورماگومیدوف کو بھی مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ ایسا ہوا ہے، ہم نے بھی پیسے کھوئے لیکن جانوں کے مقابلے میں پیسہ کچھ نہیں۔کک باکسر خبیب نے کسی مخصوص اسپانسر یا کمپنی کا نام، منسوخ کیے گئے معاہدوں کی تعداد یا مالی نقصان کی مالیت ظاہر نہیں کی۔ خبیب نے کہا کہ ان کے پاس سوشل میڈیا پر ایک بڑا پلیٹ فارم ہے اور وہ اسے فلسطینیوں کی صورت حال کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنے کی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ انھوں نے کھلاڑیوں سے اپیل کی کہ اگر وہ براہِ راست مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم خاموش نہ رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *