Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کوئٹہ(ویب ڈیسک) نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان علی احمد لانگو نے بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کی برسی کے موقع پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ میر غوث بخش بزنجو کوئی عام سیاسی شخصیت نہیں تھے بلکہ وہ ایک عہد ایک تاریخ، ایک مکتبِ فکر ایک جمہوری روایت اور قومی بیداری کی ایسی روشن علامت تھے جن کی فکر آج بھی بلوچستان اور پاکستان کے سیاسی افق پر رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ ان کی ذات ایک ایسی تربیت گاہ تھی جہاں سیاست کو اقتدار کی خواہش نہیں بلکہ عوامی خدمت اصول پسندی، برداشت، رواداری اور قومی ذمہ داری کے طور پر سمجھا اور برتا جاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ بابائے بلوچستان نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں انسان دوستی، جمہوریت، پارلیمانی بالادستی قومی خودمختاری اور قومی حقوق کے لیے ایک باوقار اور اصولی جدوجہد کی۔ ان کو ادارک تھا کہ قوموں کے مسائل طاقت کے بجائے مکالمے، عوامی بالادستی اور عوامی اعتماد کے ذریعے حل ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ بابائے بلوچستان نے سیاست میں شائستگی، برداشت اور مکالمے کا چراغ روشن کیا تھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اپنے نظریے پر ثابت قدم رہتے ہوئے بھی مخالف رائے کے لیے گنجائش رکھی جا سکتی ہے، اور قومی حقوق کی جدوجہد کو نفرت، تعصب اور انتشار سے بچاتے ہوئے جمہوری اقدار کے دائرے میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے گزشتہ چند دہائیوں میں مفاداتی سیاست، طاقت کی بالادستی، عدم برداشت اور سیاسی اخلاقیات کے زوال نے ہمارے سماج، معیشت، سیاست اور ثقافتی اقدار کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ میر غوث بخش بزنجو کا ہر قدم قومی سوال کے منصفانہ حل جمہوری اداروں کی مضبوطی پارلیمان کی بالادستی اور عوامی حاکمیت کے لیے اٹھتا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سال جیلوں، پابندیوں اور سخت حالات میں گزارے، مگر نہ اپنے اصولوں سے دستبردار ہوئے، نہ جبر کے سامنے جھکے اور نہ ہی عوامی حقوق کے مطالبے سے پیچھے ہٹے۔علی احمد لانگو نے کہا کہ بابائے بلوچستان کی فکر ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ بلوچستان میں امن کا راستہ طاقت کے استعمال، سیاسی آوازوں کو دبانے یا عوامی مسائل سے نظریں چرانے میں نہیں بلکہ اعتماد سازی، بامعنی سیاسی مکالمے، آئینی ضمانتوں اور عوام کے حقِ حکمرانی کو تسلیم کرنے میں مضمر ہے۔ محرومی، بے روزگاری، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم، تعلیم و صحت کی کمزور صورتحال اور نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے اضطراب کو محض انتظامی اقدامات سے حل نہیں کیا جاسکتا اس کے لیے سنجیدہ، دوراندیش اور عوام دوست سیاست درکار ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ میر بزنجو کے سیاسی فلسفے کو مشعلِ راہ بنا کر ہی قومی مقاصد کی تکمیل، جمہوریت کے استحکام، اور بلوچستان کے عوام کے لیے باوقار مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ نیشنل پارٹی بابائے بلوچستان کی فکری جمہوری اور قومی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے عوام کے سیاسی، معاشی اور آئینی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔بیان میں کہا گیا کہ میر غوث بخش بزنجو کا نام محض ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی عہد کا عنوان ہے جس میں اصول، کردار، عوامی وابستگی اور جمہوری مزاحمت کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ بابائے بلوچستان کی فکر اس وقت تک زندہ رہے گی جب تک بلوچستان کا نوجوان اپنے حق اپنی شناخت اپنے وسائل اور اپنے باوقار مستقبل کے لیے شعور دلیل اور جمہوری جدوجہد کے راستے پر گامزن رہے گا۔