Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

شام [انٹرنیشنل ڈیسک]شام کی عدلیہ نے منگل کے روز سابق صدر بشار الاسد کو قتل، تشدد اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے غیر حاضری میں سزائے موت سنا دی ہے۔ یہ فیصلہ ان خلاف ورزیوں کے سلسلے میں دیا گیا جو 2011 سے شروع ہونے والے تنازع کے دوران پیش آئیں۔عدالت نے مزید سات مفرور ملزمان کو بھی سزائے موت سنائی۔ ان میں سابق صدر کے بھائی ماہر الاسد، سابق وزیر دفاع فہد جاسم الفریج اور دیگر شامل ہیں۔ انھیں قتلِ عمد اور ایسے تشدد کا مجرم قرار دیا گیا جو موت کا سبب بنا۔یہ پہلا عدالتی فیصلہ ہے جو دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور ان کے اپنے خاندان اور قریبی ساتھیوں کے ہمراہ روس فرار ہونے کے بعد شام کے اندر ان کے خلاف سنایا گیا ہے۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شامی حکام رواں سال سابق حکومت سے وابستہ متعدد عہدے داروں کے خلاف مقدمات چلا رہے ہیں۔ بعض کے خلاف غیر حاضری میں اور بعض کے خلاف ان کی موجودگی میں مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل کا مقصد تنازع کے دوران ہونے والی خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا احتساب کرنا ہے۔اب تک بشار الاسد یا ان کے نمائندوں کی جانب سے فیصلے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔بشار الاسد اب بھی روس میں مقیم ہیں، جو شامی جنگ کے دوران ان کے نمایاں حامیوں میں شامل تھا، جس کے باعث سزا پر عمل در آمد عملی طور پر ان کی گرفتاری یا شام کے حوالے کیے جانے سے مشروط ہے۔شام کی نئی حکومت پہلے ہی ماسکو سے مطالبہ کر چکی ہے کہ الاسد کو مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے اس کے حوالے کیا جائے۔ دسمبر 2024 میں حزب اختلاف کے دھڑوں، جن کی قیادت اس وقت ہیئت تحریر الشام کر رہی تھی، نے ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا اور یوں شام میں بشار الاسد کے خاندان کی پانچ دہائیوں سے زائد پر محیط حکمرانی کا اختتام ہو گیا تھا۔بشار الاسد نے 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کے بعد شام کی صدارت سنبھالی تھی، جنھوں نے تقریباً تین دہائیوں تک ملک پر حکومت کی۔مارچ 2011 میں شام میں جمہوریت کے مطالبے پر مشتمل مظاہرے شروع ہوئے۔ ان کا آغاز ان بچوں کی گرفتاری کے بعد ہوا تھا جنھوں نے شہر کی دیواروں پر بشار الاسد کے خلاف نعرے لکھے تھے۔ یہ مظاہرے جاری رہے اور دیگر شہروں تک پھیل گئے، جہاں سیاسی اصلاحات اور اس وقت کے صدر کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔حکام نے ان احتجاجی مظاہروں کا جواب طاقت کے استعمال سے دیا، جبکہ بشار الاسد کی حکومت کا کہنا تھا کہ وہ ’تخریب کاروں‘ اور بیرونی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کا سامنا کر رہی ہے۔چند ہی ماہ میں یہ احتجاج مسلح جھڑپوں میں بدل گیا، پھر ایک ایسی جنگ میں تبدیل ہو گیا جس میں مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں نے حصہ لیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں شامی افراد ہجرت اور نقل مکانی پر مجبور ہوئے جبکہ لاکھوں ہلاک ہوئے۔تنازع کے برسوں کے دوران شام سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے قتل، تشدد، جبری گمشدگی، جنسی تشدد اور شہریوں پر حملوں سمیت وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی۔کمیشن نے متعدد رپورٹوں میں کہا کہ سرکاری افواج کی جانب سے کی جانے والی بعض خلاف ورزیاں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ کمیشن نے مسلح حزب اختلاف کے گروہوں اور جہادی تنظیموں پر بھی جنگی جرائم اور سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے۔بشار الاسد کی حکومت کو جنگ کے دوران کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات کا بھی سامنا رہا، جن کی دمشق نے بارہا تردید کی۔