Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کوئٹہ(این این آئی) ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی، سنیئر نائب صدر حاجی اختر کاکڑ اور نائب صدر انجنیئر میر وائس خان کاکڑ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں ہونے والے تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ نہ صرف تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ خطے میں امن، استحکام اور معاشی ترقی کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ، مذہبی، تاریخی اور تجارتی تعلقات موجود ہیں۔ مکہ مکرمہ میں ہونے والا معاہدہ ان تعلقات کو ایک نئی سمت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے مثبت اثرات دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ صنعت، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور کاروباری روابط پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں کسی بھی ملک کی مضبوطی صرف دفاعی صلاحیت سے نہیں بلکہ معاشی استحکام، صنعتی ترقی، باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ سے بھی وابستہ ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اگر اپنے باہمی تعلقات کو وسیع معاشی تعاون میں تبدیل کرتے ہیں تو تینوں ممالک کے کاروباری طبقے کے لیے نئی منڈیاں، سرمایہ کاری کے مواقع اور مشترکہ منصوبوں کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہم صوبہ ہے، جہاں گوادر بندرگاہ، معدنی وسائل، توانائی، زراعت، لائیو اسٹاک اور دیگر شعبوں میں وسیع کاروباری امکانات موجود ہیں۔ مکہ معاہدے کے نتیجے میں پاکستان اور برادر اسلامی ممالک کے درمیان اقتصادی روابط میں اضافہ ہوتا ہے تو بلوچستان بھی اس معاشی تعاون سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ مکہ معاہدے کے وسیع تر معاشی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے سعودی عرب اور ترکیہ کے کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں اور چیمبرز آف کامرس کے ساتھ براہِ راست رابطوں کو فروغ دیا جائے۔ پاکستانی مصنوعات کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی، مشترکہ صنعتی منصوبوں، معدنیات، توانائی، انفراسٹرکچر، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاجر و صنعت کار برادری ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی تجارت کے فروغ کی خواہاں رہی ہے۔ مضبوط اور پائیدار علاقائی تعاون سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کے فروغ کا ایک اہم موقع ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاہدے کو صرف دفاعی تعاون تک محدود رکھنے کے بجائے تجارت، صنعت، سرمایہ کاری، تعلیم، ٹیکنالوجی اور دیگر اقتصادی شعبوں میں بھی وسیع تعاون کے لیے استعمال کیا جائے۔ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات مستقبل میں ایک مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل ہوں گے اور اس کے نتیجے میں پاکستان بالخصوص بلوچستان کے لیے سرمایہ کاری اور تجارت کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔