Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کوئٹہ (این این آئی) بی این پی کے سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کے ملازمین کے فلیٹ پر کراچی میں چھاپہ مار کر 2افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، سردار اختر جان کے عملے کو رہا نہ کیا گیا اور اگر سندھ حکومت نے اپنا مؤقف واضح نہ کیا تو بلوچستان نیشنل پارٹی پورے بلوچستان میں احتجاجی تحریک شروع کرے گی بلوچستان نیشنل پارٹی، سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ہر قسم کے جبر اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف اپنی سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔یہ بات انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر بی این پی کے سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، مرکزی لیبر سیکریٹری موسیٰ بلوچ، بی ایس او مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین غلام نبی مری، چیئرمین واحد بلوچ، چیئرمین جاوید بلوچ، ثانیہ حسن کاشانی، میر مقبول لہڑی، شمائلہ اسماعیل، ضلع کوئٹہ آرگنائزر حاجی وحید لہڑی، ڈپٹی آرگنائزر ڈاکٹر جاوید بلوچ، ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی اراکین ماما نور خان کیھازئی، حاجی صدیق لانگو، میر وائس مینگل، نسیم ہزارہ، اکرم بلوچ، فریدہ بلوچ، تنویر لہڑی، رضا جان شاہی زئی، میر اسماعیل منگل، سمیت پارٹی کے دیگر رہنما موجود تھے۔ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ فورسز کی جانب سے گزشتہ رات بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کی کراچی رہائش گاہ کے قریب اپنے عملے کے لیے کرائے پر لیے گئے ایک اپارٹمنٹ پر بغیر کسی وارنٹ کے چھاپہ مارا اور انکے مینیجر، سیکیورٹی گارڈز کو اغوا کیا گیا، جن میں سے 11 گارڈز کو بعد میں رہا کر دیا گیا، جبکہ منیجر حاجی رجب اور ایک گارڈ احمد تاحال رہا نہیں ہوئے۔ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر سردار اختر جان کے عملے کو رہا نہ کیا گیا اور اگر سندھ حکومت نے اپنا مؤقف واضح نہ کیا تو بلوچستان نیشنل پارٹی پورے بلوچستان میں احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان نیشنل پارٹی اس غیر قانونی چھاپے اور اغوا نما گرفتاری کی شدید مذمت کرتی ہے اور یہ بات واضح کرتی ہیں کہ ایسے اقدامات پارٹی سربراہ یا رہنماؤں کو خوفزدہ نہیں کر سکتے۔آج کے حکمران ایک بار پھر بی این پی کی قیادت کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کر رہے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے مشرف کے مارشل لاء کے دور میں کی گئی تھیں۔ جب سردار اختر جان کو لوہے کے پنجروں میں لاتے تھے، تب بھی ہم نے اپنا مؤقف تبدیل نہیں کیا، تو اب بھی ایسا نہیں کریں گے۔ ہم ایک بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایک جنرل تھا جس نے بی این پی اور دیگر سیاسی حریفوں کے خلاف تمام ہتھکنڈے استعمال کیے، لیکن آج کوئی اس جنرل کا نام بھی لینے کو تیار نہیں، جبکہ بی این پی اب بھی عوام کے دلوں میں بستی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی پالیسیاں یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ ایک لکیر کھینچی جا رہی ہییا تو پہاڑوں کا رخ کیا جائے یا پھر اسٹیبلشمنٹ کی ہدایات پر عمل کیا جائے، لیکن ہم اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ چاہے سردار اختر جان مینگل کے خلاف دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات ہوں، ان کے اہل خانہ کو ایف آئی اے کے نوٹسز ہوں یا ان کا نام ‘نو فلائی لسٹ’ میں شامل کرنا، یہ تمام اقدامات محض انہیں جبر کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنے یا ڈرانے دھمکانے کے لیے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ اور کٹھ پتلی حکومت کی پالیسیوں نے بلوچستان میں حالات کو ایسی نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں سے واپسی انتہائی مشکل ہیں، اب وہ ان سیاسی جماعتوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں جو جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہمیشہ بلوچوں اور پشتونوں کے خلاف منفی کردار ادا کیا ہے، حالانکہ وہ خود کو نام نہاد جمہوریت پسند کہلواتے ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی، سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ہر قسم کے جبر اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف اپنی سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔ بلوچستان کے عوام کے حقوق، عزت اور شناخت کا تحفظ ہماری سیاسی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری سے ہم کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔ بلوچستان حکومت جو کچھ بھی کرتی ہے وہ صرف بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کے لیے کرتی ہیں، لیکن اب سندھ حکومت بھی بلوچستان حکومت کے نقشِ قدم پر چل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی جانب سے بلوچستان کے ساتھ ہمیشہ ایک کالونی جیسا سلوک کیا گیا ہے بی این پی دیگر ہم خیال سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت سے جلد ہی احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔ بی این پی نے ہر موقع پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ بلوچستان مسئلے کا حل طاقت نہیں بلکہ سیاسی مکالمہ، انصاف اور عوامی اعتماد کی بحالی ہے۔ آج کا واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ بدقسمتی سے ابھی تک اس سوچ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔