بلوچستان میں جدید سیف سٹی نظام اور مؤثر انٹیلی جنس نیٹ ورک کے ذریعے دہشت گردی اور جرائم کا خاتمہ ناگزیر ہے، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(ویب ڈیسک) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ حکومت جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر نگرانی کے نظام کو بروئے کار لا کر بلوچستان میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی سمیت سنگین جرائم کے خاتمے کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، اسمگلنگ، ڈکیتی اور دیگر جرائم میں حالیہ برسوں کے دوران تشویشناک اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث عوام کے جان و مال کا تحفظ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔انہوں نے اپنے خصوصی بیان میں کہا کہ بلوچستان میں جدید سیف سٹی منصوبے کا مؤثر نفاذ نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کرے گا بلکہ جرائم کی روک تھام، دہشت گردی کی پیشگی نشاندہی اور فوری کارروائی کو بھی ممکن بنائے گا۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ سیف سٹی منصوبہ صرف سی سی ٹی وی کیمروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ایک جامع سکیورٹی نظام کی شکل دی جانی چاہیے۔ اہم شاہراہوں، سرحدی راستوں، حساس تنصیبات اور شہری علاقوں میں ہائی ریزولوشن کیمرے، ڈرون نگرانی، سیٹلائٹ تصاویر، خودکار نمبر پلیٹ شناختی نظام، مصنوعی ذہانت پر مبنی مانیٹرنگ، جیو فینسنگ اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز قائم کیے جائیں تاکہ مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی اور مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اس وقت تک مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی جب تک اسے مضبوط انسانی انٹیلی جنس کے ساتھ مربوط نہ کیا جائے۔ مقامی آبادی، قبائلی عمائدین، پولیس، لیویز، ایف سی، انسداد دہشت گردی فورس اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے نیٹ ورک کو زیادہ مؤثر انداز میں بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سیف سٹی منصوبے کو محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک جامع قومی سکیورٹی حکمت عملی کے طور پر نافذ کرنا ہوگا۔ جدید کیمروں، ڈرونز، سیٹلائٹ نگرانی، مصنوعی ذہانت، انسانی انٹیلی جنس اور ادارہ جاتی تعاون کو یکجا کرکے ہی دہشت گردی اور جرائم پر مؤثر قابو پایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے سے نہ صرف سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ عوامی اعتماد میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا، جو بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *