امریکہ کا ترک شہری پر برطانیہ میں رجسٹرڈ خیراتی ادارے کے ذریعے حماس کی فنڈنگ کا الزام

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک)امریکی حکام نے ایک ترک شہری پر حماس تنظیم کو مالی مدد اور فنڈنگ فراہم کرنے کی سازش کا الزام عائد کیا ہے۔ اس کیس کے بارے میں واشنگٹن نے کہاہے کہ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ برطانیہ میں رجسٹرڈ ایک انسانی تنظیم کو حماس تنظیم کو رقم اور سامان منتقل کرنے کے لیے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کیا گیا، جیسا کہ امریکی وزارت انصاف کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا۔عرب ٹی وی کے مطابق نیویارک کے جنوبی ضلع کے امریکی اٹارنی جیمی میکڈونلڈ، قومی سلامتی کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان اے ایزنبرگ اور ایف بی آئی حکام نے محمد یوسف حسنہ جو اورہان کورکماز اور ابو البرا کے نام سے بھی معروف ہے، پر 3 الزامات عائد کرنے کا اعلان کیا۔ ان میں حماس تنظیم کو مالی امداد فراہم کرنے کی سازش اور دہشت گردی کی فنڈنگ کی سازش شامل ہے۔حسنہ کو 29 جولائی کو برطانیہ میں گرفتار کیا گیا تھا، جہاں وہ امریکہ کے حوالے کیے جانے کے عمل کی تکمیل کے انتظار میں ابھی تک حراست میں ہیں۔شکایت کے مطابق حسنہ نے ایک بین الاقوامی انسانی تنظیم کے عالمی ڈائریکٹر کے طور پر اپنے عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حماس تنظیم کی سینئر قیادت کے ساتھ براہِ راست رابطے کے ذریعے غزہ کی پٹی میں رقم اور سامان کی ترسیل کے لیے کام کیا اور تنظیم کی ہدایات کے مطابق ان کی تقسیم کی نگرانی کی۔میکڈونلڈ نے کہا کہ حسنہ نے اپنے عہدے کو حماس تنظیم کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے، مالی اعانت اور سامان کی فراہمی کے لیے استعمال کیا اور امداد کے کور کے تحت خوراک و فنڈز پہنچانے کے لیے تنظیم کی اعلی قیادت کے ساتھ مل کر کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ گرفتاری حماس تنظیم کے عالمی مالیاتی نیٹ ورکس کو تباہ کرنے کے امریکی حکام کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ایزنبرگ نے اس بات کی تصدیق کی کہ جعلی انجمنوں کے ذریعے منتقل ہونے والی رقم حماس تنظیم کی سرگرمیوں کی فنڈنگ میں معاون ثابت ہوتی ہے اور تنظیم غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورکس پر انحصار کرتی ہے۔ایف بی آئی کے اہلکار جاروڈ بران نے انکشاف کیا کہ ملزم نے حماس تنظیم کو فنڈنگ اور سامان فراہم کرنے کے لیے امدادی تنظیم کا استعمال کیا اور وہ اس بات سے واقف تھے کہ وسائل ضرورت مند شہریوں کے بجائے حماس تنظیم تک پہنچیں گے۔ ایف بی آئی اہل کار جیمز بارنیکل نے کہا کہ حسنہ نے ایک خیراتی ادارے کو حماس تنظیم کو دس لاکھ منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا۔شکایت کے مطابق حسنہ برطانیہ میں رجسٹرڈ ایک بین الاقوامی خیراتی ادارے کے عالمی ڈائریکٹر کا عہدہ رکھتے ہیں، جسے امریکی حکام نے جعلی سوسائٹی قرار دیا ہے۔ الزامات کے مطابق انہوں نے تنظیم کے رہنما غازی حمد کے ساتھ وسیع ہم آہنگی کے ذریعے حماس تنظیم کو فنڈنگ اور سامان فراہم کیا۔دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ادارے کی آمدنی مالیاتی سال 2023 میں 4.18 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر مالیاتی سال 2024 میں 8.156 کروڑ ڈالر ہو گئی، جو کہ تقریبا دو گنا ہے۔ اس نے 31 جولائی 2025 کو ختم ہونے والے مالیاتی سال میں خیراتی سرگرمیوں پر 9.1 کروڑ ڈالر خرچ کیے۔شکایت میں الزام ہے کہ حسنہ اور غازی حمد نے کم از کم 2023 سے حماس تنظیم کے لیے غزہ کی پٹی میں رقم اور سامان داخل کرنے کے لیے کام کیا۔ انہوں نے گمراہ کن معلومات اور مبہم تصاویری مواد کے ذریعے امداد کی حقیقی منزل کو چھپانے کے اقدامات کیے۔استنبول میں مقیم 45 سالہ حسنہ کو 3 الزامات کا سامنا ہے۔ ہر جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا 20 سال قید ہے۔ امریکی وزارت انصاف نے تصدیق کی کہ یہ تمام باتیں صرف الزامات ہیں اور ملزم کو جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *