عمران خان ودیگرسیاسی اسیران کو رہا کیا جائے، ، عبدالرحیم زیارتوال ساجد ترین ایڈووکیٹ، جہانگیر رند ودیگر کا کوئٹہ میں احتجاجی جلسے سے خطاب 

کوئٹہ (ویب ڈیسک) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ، پشتونخوامیپ کے چیئرمین قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی کال پر پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو قید کے 3سال مکمل ہونے پر ملک کے تمام ہیڈ کوارٹرز میں احتجاجی ریلیوں ،مظاہروں کاانعقادکیا گیا۔ جبکہ صوبے کی مرکزی ریلی کوئٹہ میں پشتونخوا میپ کے مرکزی سیکرٹریٹ کلب روڈ سے نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل سیاسی جماعتوں پشتونخو املی عوامی پارٹی ، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی و صوبائی قائدین نے کی ۔ ریلی میں تحریک انصاف کے خواتین نے بھی شرکت کی ۔ ریلی جناح روڈ ،منان چوک، کندہاری بازار سے ہوتا ہوا باچا خان چوک پر احتجاجی جلسے میں تبدیل ہوا ۔ احتجاجی جلسے کی صدارت پشتونخوا میپ کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے کی ۔ احتجاجی جلسے سے عبدالرحیم زیارتوال، بی این پی مرکزی نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ اور پی ٹی آئی کے صوبائی جنرل سیکرٹری جہانگیر رند نے خطاب کیاجبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض پشتونخوا میپ کے صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان، پی ٹی آئی رہنماءسردار زین العابدین خلجیاوربی این پی کے رہنماءجاوید بلوچ نے سرانجام دیئے۔تلاوت کلام پاک کی سعادت عزیز اللہ ہمزولے نے حاصل کی ۔ احتجاجی جلسے میں پشتونخو امیپ کے ڈپٹی چیئرمین عبدالرﺅف لالا ، مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری مالیات آغا سید لیاقت علی، مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان ، صوبائی سینئر نائب صدر و ضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا اور دیگر صوبائی ایگزیکٹیوز ، بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ،اختر حسین بلوچ ، غلام نبی مری ، تحریک انصاف کے نور خان خلجی ،سید صادق آغا اوردیگر رہنماﺅں نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاءنے عمران خان کی سیاسی سزا ختم کرو، ملکی آئین کو بحال کرو، جمہوریت کو بحال کرو، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی بحال کرو، ملک میں سویلین اتھارٹی بحال کرو، آمریت مردباد، جمہوریت زندی آباد،عمران خان اور سیاسی اسیرو ں کو رہا کرو، تحریک تحفظ آئین پاکستان زندہ آباد کے فلگ شگاف نعریں لگائیں۔ مقررین نے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو جیل میں رکھنا بربادی کا راستہ ہے ، عمران خان ، ماہرنگ بلوچ ، علی وزیر سمیت تمام سیاسی اسیروں کو رہا کیا جائے ۔ مقررین نے کہا کہ 8فروری 2024کے انتخابات میں عوام نے عمران خان کی پارٹی کو بھاری مینڈیٹ دیا جسے ریاستی زروزور کی بنیاد پر چھینا گیا اس سے قبل عمران خان کی جماعت سے انتخابی نشان کو چھینا گیااس طرح عوام کے مسترد کردہ لوگوں کو نیلامی اور فارم 47کے ذریعے اسمبلیوں تک پہنچا کر اقتدار حوالے کیا گیا ۔ ملک میں شروع دن سے جمہوریت نواز و جمہوری قوتوں اور آمریت نواز و آمرانہ قوتوں کے مابین آئین کی بالادستی ، جمہور کی حکمرانی کیلئے کش مکش جاری ہے۔ آمرانہ قوتوں و حکمرانوں کی سازشوں کی نتیجے میںبننے والی حکومتوں، وزرائ، جماعتوں کے طرز حکمرانی ، کردار پر نا صرف سیاسی جمہوری پارٹیاں ، عوام بلکہ دنیا بھی عدم اعتماد کا اظہار کرچکی ہے

مقررین نے کہا کہ آج بلوچستان اور خیبر پشتونخوا میں امن ناپید ہوچکا ہے جسکی بنیادی وجہ پشتون ، بلوچ وطنوں میں قدرت کی بیش بہا نعمتیں ، معدنیات ہیں۔ان قیمتی معدنیات و جنگلات سے عوام کو محروم رکھنے اور ان کی لوٹ مار کیلئے ریاستی بدامنی ، دہشتگردی کے واقعات تسلسل کیساتھ جاری ہےں جس میںہمارے عوام کے ٹرکوں ، کوچز ، املاک کو جلانے ،نقصانات پہنچانے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع سے بھی دریغ نہیں کیا جارہا ہے ۔مقررین نے کہا کہ آرمی چیف کا منصب اہم ترین منصب ہے ۔ شاہد آرمی چیف سٹاف نے اپنے منصب کے ساتھ انصاف نہیں کیا ۔ اور نہ ہی ملک کے 25کرورڑ انسانوں کی حق رائے دہی کا ا حترام کیا ۔ اس طرح جاری مداخلت آئین پاکستان کی صریحاً خلاف ورزی ہے ۔ معاشی طور ہر تباہ حال ملک میں غیر ترقیاتی اخراجات بڑھانا دراصل ملک کو معاشی تباہی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہیں اور سیاسی عدم استحکام نہ ہونے کی وجہ سے ملک کے بحران گہرے ہوتے جارہے ہیں ۔ 8 فروری کے الیکشن سے لیکر آج تک جو کچھ ہوا اور آج جو کچھ ہورہا ہے اور سیاست میں مداخلت جاری ہے یہ قابل افسوس ہے۔ اسی طرح ہمارے وطن میں بدامنی کی لہر اور جاری قتل و غارت، دہشتگرادانہ واقعات ، اغواءکاری، چوری ڈکیتی، بھتہ خوری اور بے گناہ انسانی جانیں ضائع ہورہی ہے جس میں فورسز اور عوام دونوں شکار ہورہے ہیں۔مقررین نے کہا کہ سیاسی ، جمہوری احتجاج کاحق ملک کا آئین دیتا ہے آج آئین پامال ہوچکا ہے ۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئٹہ میں احتجاجی جلوس و جلسے کی اجازت نہ دینا قابل افسوس ہے۔ ڈی سی کوئٹہ کا یہ اقدام غیر آئینی ، غیر جمہوری ہے اور تحریک تحفظ پاکستان اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ ہمارے اکابرین بالخصوص خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے اس صوبے میں سیاست اور صحافت کی بنیاد رکھی تھی ۔ صوبے میں پریس ایکٹ منظور کرایا آج یہاں پریس پر پابندیاں ہے آزاد صحافت پر قدغنیں عائد اور عدلیہ کے ہاتھ باندھ دیئے گئے ہیں ۔ آج ملک بھر میں سیاسی ، جمہوری کارکن و عوام احتجاج پر نکلیں ہیں لیکن کسی بھی احتجاج کو میڈیا پر نہیںدکھایا جارہا اور نہ ہی میڈیا کو چھوڑا جارہا ہے ۔ جوغیر جمہوری ، غیر قانوں حربے استعمال کئے جارہے ہیں یہ دراصل سیاسی جمہوری جدوجہد کا راستہ روکنے اور ملک کو تباہی کی جانب گامزن کرنے کے مترادف ہے۔ سیاسی جمہوری رہنماﺅں و کارکنوں کا کام ہے ہم سیاست کو عبادت سمجھتے ہےں اور یہ سیاسی عبادت ہم کرتے رہیں گے یہاں سیاسی جمہوری کارکنوں کو سیاست سے دستبردار کرنے کیلئے اوچے ہتکھنڈ ے استعمال کئے جاتے ہیں اور غیر سیاسی لوگوں کو جس طرح ابھارا جارہا ہے یہ غیر جمہوری عمل کسی صورت نیک شگون نہیں۔ ہم اپنی اس جمہوری تحریک کے ذریعے محترم محمود خان اچکزئی ودیگر قائدین کی قیادت میں میڈیا و عدلیہ کی آزادی ، آئین کی بحالی، پارلیمنٹ کی خودمختاری ، جمہوری کی حکمرانی بحال کریں گے ۔ تحریک تحفظ پاکستان جس مقصد کیلئے بنی ہے ان اہداف کا حصول سیاسی جمہوری جدوجہد سے ممکن ہے آج ملک میں آئین و جمہوریت پامال ہے ہمیں آئین و جمہوریت کی بحالی ، ملک کو قوموں کا حقیقی جمہوری فیڈریشن بنانے کیلئے اپنی جدوجہد کو تیز کرنا ہوگا۔ مقررین نے کہا کہ ملک نااہل مسلط حکمرانوں کے ناقص اور آمرانہ طرز حکمرانی کے نتیجے میں معاشی طور پر دیوالیہ ہوچکا ہے ، تاریخ کے بدترین بحرانوں میں گرچکا ہے ۔ ملک میں نئے صوبے ، ڈویژنز و اضلاع کی سازشیں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ عوام کی مرضی و منشاءاور تاریخی، جغرافیائی حیثیت کو نظرانداز کرنے سے ملک مزید بحرانوں میں گر جائیگا۔مقررین نے کہا کہ یہاں ہر علاقے میں مسلح جتوں کو حکومتی سرپرستی میں آباد کرنا، خوف و ہراس پھیلانے ، زیارت ، ہنہ اوڑک، ہرنائی ، دکی ودیگر علاقوں میں دہشتگرادانہ واقعات ، قتل و غارت، اغواءکاری، چوری ڈکیتی، بدامنی، بھتہ خوری کی ذمہ دار فارم 47کی حکومت ہے۔مقررین نے کہا کہ تربت ، پنجگور، گوادر میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکنوں کااظہار یکجہتی کیلئے احتجاج بالخصوص کوئٹہ کے تمام باسیوںکا زیارت مانگی پولیس سانحہ کیخلاف کوئٹہ میں احتجاجی دھرنے میں شرکت ، خدمت اور اظہار یکجہتی کی مثال قابل تحسین ہے اور اتحاد و اتفاق اور منظم جدوجہد ہی ہماری نجات کا ذریعہ ثابت ہوگی۔ آج کے سیاسی جمہوری کارکنوں و عوام کا بڑی تعداد میںاحتجاج میں شرکت کرنا قابل تحسین ہے اور کامیاب ریلی و جلسے پر تمام کارکنوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *