Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

کوئٹہ(ویب ڈیسک) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ آئل ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبوں اور ایسکرو معاہدوں پر دستخط میں مزید تاخیر سے 6 ارب ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری غیر معینہ مدت تک مؤخر ہو سکتی ہے، جبکہ ریفائنریوں پر عائد مالی جرمانوں اور اضافی اخراجات میں بھی مسلسل اضافہ ہوگا۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ملک کے توانائی کے شعبے، ایندھن کی فراہمی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔ اس لیے حکومت، ریگولیٹری اداروں اور ریفائنریوں کے درمیان فوری ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے زور دیا کہ نظرثانی شدہ معاہدوں کے مسودے فوری طور پر جاری کیے جائیں تاکہ اپ گریڈیشن منصوبوں پر عملی کام کا آغاز ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ریفائنری لمیٹڈ کے ساتھ مقررہ مدت سے قبل تمام ضروری شرائط کی تکمیل ناگزیر ہے، جن میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری، اوگرا کے ساتھ معاہدوں کے مسودوں کی توثیق اور مطلوبہ بینک گارنٹیوں کی فراہمی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن پاکستان کے لیے اس لیے بھی ناگزیر ہے کہ اس سے عالمی معیار کے صاف ایندھن کی پیداوار میں اضافہ، درآمدی انحصار میں کمی، زرمبادلہ کی بچت اور مقامی صنعت کی استعداد میں نمایاں بہتری آئے گی۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر نہ صرف منصوبوں کی لاگت میں اضافے کا باعث بنے گی بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچائے گی۔ اگر معاہدوں کو مزید مؤخر کیا گیا تو پاکستان اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے کی جدیدکاری کے عمل میں بھی پیچھے رہ جائے گا، جس کے اثرات ملکی معیشت، ایندھن کی دستیابی اور صنعتی ترقی پر طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے بروقت اور مؤثر فیصلے ہی اس اہم سرمایہ کاری کو عملی شکل دے سکتے ہیں۔ فوری اقدامات کے ذریعے نہ صرف توانائی کے شعبے کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے۔