لکپاس چیک پوسٹ سے پارٹی رہنما جمعہ خان نیچاری کی اہلیہ، بیٹی اور بھانجی کے مبینہ طور پر لاپتہ کرنے کی مذمت کرتے ہیں ،فوری طور پر لاپتہ افراد کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ

کوئٹہ (ویب ڈسک) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے لکپاس چیک پوسٹ سے پارٹی رہنما جمعہ خان نیچاری کی اہلیہ، بیٹی اور بھانجی کے مبینہ طور پر لاپتہ کیے جانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خواتین کی ایک ہفتے کے اندر بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر خواتین کو فوری رہا نہ کیا گیا تو بی این پی پورے بلوچستان میں احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔یہ بات انہو ں نے اتوار کو بی این پی کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ملک نصیر شاہوانی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، مرکزی فنانس سیکرٹری اختر حسین لانگو، مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ، سابق میئر کوئٹہ میرمقبول احمدلہڑی اوردیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔ساجد ترین ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ 30 جولائی کو لکپاس چیک پوسٹ پر پارٹی کے سینئر رہنما جمعہ خان نیچاری کے اہلخانہ کو بغیر کسی وارنٹ کے حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا، جبکہ چیک پوسٹ پر سادہ لباس اہلکار تعینات تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام غیر قانونی اور قابل مذمت ہے اور بی این پی اس معاملے پر خاموش نہیں رہے گی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کو لاپتہ کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس وقت 108 خواتین لاپتہ ہیں، جس سے صوبے میں بے چینی اور نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں عوام خود کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سیاسی مکالمے، انصاف اور عوامی اعتماد کی بحالی میں ہے۔ انہوں نے وزیراعظم اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے عوام کے حقوق، عزت اور حقِ حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے سیاسی مسائل کا آئینی اور جمہوری حل نکالا جائے۔انہوں نے کہا کہ جمعہ خان نیچاری ایک سیاسی کارکن ہیں اور انہیں دھمکی آمیز کالیں موصول ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی قومی شاہراہیں بند ہیں جبکہ حکومت کی عملداری ریڈ زون تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔انہوں نے نئے اضلاع سے متعلق جاری نوٹیفکیشن کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے قلات ڈویژن اور وڈھ و مستونگ سے متعلق فیصلوں کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ہر قسم کے جبر اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف اپنی سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی اور اپنے عوام کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *