Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

اسلام آباد ویب ڈیسک /نیوز ایجنسیاں ،پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں کالعدم تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامی مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ جبکہ پولیس کے مطابق اس کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والا شخص راہگیر تھا۔ تاہم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن رکن سردار تنویر کا دعویٰ ہے کہ وہ تنظیم کا رکن تھا جو فائرنگ سے ہلاک ہوا اور پولیس کی شیلنگ کے نتیجے میں تنظیم کے تین کارکن زخمی ہوئے ہیں۔دوسری طرف پولیس نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ مظفرآباد میں ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن پر اس کے بقول ’شرپسند عناصر‘ نے حملہ کیا تھا۔مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص 30 سالہ معید راٹھور ہیں جن کی نماز جنازہ جمعے کی شب لوئر پلیٹ میں ادا کی گئی جہاں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کے دوران نعرے بازی بھی کی۔مظفر آباد میں جمعے کو نماز جمعہ کے بعد کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں کی جانب سے شہر کی سڑکوں کو مختلف مقامات سے پھتر پھینک کر اور ٹائر جلا کر بند کیا گیا۔ مظاہرین کئی گھنٹوں تک ٹولیوں کی شکل میں احتجاج کرتے رہے جبکہ پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس بھی استعمال کی۔پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی جمعے کو راولاکوٹ میں مظاہرین کے حق میں احتجاج ہوئے ہیں۔ کراچی میں پریس کلب کے باہر احتجاج سے قبل راستوں کی بندش کی گئی جبکہ لاہور میں پروگریسیو سٹوڈنٹ کولیکٹیو (پی ایس سی) کا کہنا ہے کہ کشمیر کی صورتحال پر احتجاج کرنے پر اس کے کارکنان کو پولیس کی جانب سے حراست میں لیا گیا ہے۔ تاحال لاہور پولیس نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ (ڈی جی آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ ہے کہ انڈیا نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے اندر ’آگ لگانے کی کوشش کی‘ اور اس حوالے سے ’باریک واردات کی گئی۔انڈیا کی جانب سے اس حالیہ الزام پر تبصرہ نہیں کیا گیا تاہم گذشتہ دنوں نئی دہلی نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری احتجاج ’دراصل وہاں کے عوام کے معاشی استحصال، بنیادی حقوق سے محرومی اور انتظامی جبر کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے ان سے یہ سوال پوچھا کہ گذشتہ کئی ہفتوں سے کشمیر بحران کا شکار ہے، کالعدم ایکشن کمیٹی کا مظاہرہ جاری ہے، بات چیت کے ذریعے معاملے کو حل کرنے کی کوشش بھی ہوئی اور جب مظاہرین نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو ’گولی بھی چلی، کئی جانیں گئیں۔‘ انھوں نے پوچھا کہ ’ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ مسئلہ مزید گمبھیر ہوتا جا رہا ہے‘ تو اس کا حل کیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کشمیر پر کیا گیا سوال بہت اہم ہے۔انھوں نے کشمیر کی صورتحال کے بارے میں سیاق و سباق دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے اٹوٹ انگ ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا۔انھوں نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ بدامنی کے واقعات کا الزام انڈیا پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ کئی حربے استعمال کر رہے ہیں۔۔۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ یہاں (انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں) تو ہم نہ انھیں ڈرا سکے، نہ دھمکا سکے۔ انھوں نے سوچا ہم یہی کام پاکستان میں کر کے دکھاتے ہیں۔‘