ایران کی جانب سے ’اچانک حملے کی کوشش‘ ناکام بنا دی گئی: امریکہ

امریکہ [انٹرنیشنل ڈیسک /نیوز ایجنسیاں ]ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج پر ’اچانک حملے کی کوشش‘ میں متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان لڑائی میں آنے والا مختصر وقفہ ختم ہو گیا ہے۔امریکی فوج کے مطابق یہ حملہ منگل کو امریکی مشرقی وقت کے مطابق شام پانچ بج کر 45 منٹ پر کیا گیا (پاکستانی وقت کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی رات دو بج کر 45 منٹ)، تاہم تمام میزائل کامیابی سے تباہ کر دیے گئے۔ امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے یہ نہیں بتایا کہ حملے کا ہدف کون سی جگہیں تھیں۔دوسری جانب سینٹکام کے مطابق امریکی اور سعودی افواج نے عراق میں ’ایران نواز شدت پسندوں‘ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی ہدایت پر کیے گئے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔تہران نے تا حال ان دعوؤں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔یہ تازہ جھڑپیں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ایسے مختصر وقفے کے بعد سامنے آئی ہیں جس کا مقصد مذاکرات کی راہ ہموار کرنا بتایا جا رہا تھا۔سینٹکام کے مطابق امریکہ اور سعودی عرب نے مشرقی عراق میں ’شدت پسندوں کے متعدد لاجسٹک اور اسلحہ مراکز‘ کو نشانہ بنایا۔امریکی فوج نے کہا کہ یہ کارروائی گذشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ہدایت پر کیے گئے 30 سے زائد ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔سینٹکام نے خبردار کیا کہ ایرانی فوج اور اس کے پراکسی گروہوں کو ایسے حملے بند کرنا ہوں گے، ورنہ امریکہ مزید فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔منگل کے روز سعودی عرب نے بھی اعلان کیا تھا کہ اس کی فوج نے ملک کے مشرقی حصے میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ڈرونز کو تباہ کر دیا۔سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے الزام عائد کیا کہ یہ ڈرون عراق میں موجود ایران سے منسلک ملیشیاؤں نے داغے تھے۔تازہ کشیدگی سے ایک روز پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ’انتہائی دوستانہ مذاکرات‘ کا ذکر کیا تھا۔ اس وقت دونوں فریق مسلسل تیسرے روز ایک دوسرے پر حملوں سے گریز کر رہے تھے۔آبنائے ہرمز تک رسائی اور اس پر کنٹرول اب بھی کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں ایک اہم اور متنازع مسئلہ ہے، اگرچہ تہران ایسے مذاکرات کے وجود سے ہی انکار کرتا رہا ہے۔تازہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو واشنگٹن کے دورے پر تھے، جہاں انھوں نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی اور ایران کے سخت ناقد امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی آخری رسومات میں بھی شرکت کی۔پینٹاگون کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق فروری میں ایران کے خلاف کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے کم از کم 624 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔پینٹاگون کے مطابق ان میں سے 417 اہلکار آپریشن ایپک فیوری کے دوران زخمی ہوئے، جو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی مہم ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *