تربت میں قبضہ مافیا نے پنجے گاڑ لئے

تربت (این این آئی)تربت شہر اور اس کے گردونواح سمیت اب مین بازار اور اہم تجارتی مراکز میں قبضہ مافیا نے پنجے گاڑ لیے ہیں، جس کے باعث نہ صرف عام شہریوں کی اراضی بلکہ کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری زمینیں بھی لینڈ مافیا کے رحم و کرم پر آ گئی ہیں۔ قبضہ مافیا کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں اور کالونیوں میں راتوں رات چار دیواریاں اٹھا کر اراضی پر قبضہ کیا جا رہا ہے، جبکہ عوامی حلقوں اور شہریوں نے اس سنگین صورتحال پر شدید تحفظات اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ لینڈ مافیا نے ایک منظم منصوبے کے تحت تربت کی مختلف کالونیوں میں قبضہ کی گئی زمینوں پر دیگر علاقوں سے لائے گئے افراد کو کرائے پر بٹھا رکھا ہے تاکہ اراضی پر دباؤ قائم رکھا جا سکے۔ اس تمام تر صورتحال میں سب سے زیادہ تشویشناک امر ریونیو شعبے اور مقامی انتظامیہ کی خاموشی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس محکمے کے کچھ کالی بھیڑیں مافیا کی سرپرستی اور ملی بھگت میں برابر کی شریک ہیں، جو سرکاری کاغذی ریکارڈ میں ہیرا پھیری کر کے ملکی اثاثوں کو لینڈ مافیا کے حوالے کر رہی ہیں۔شہر کی مرکزی شاہراہوں، مین بازار اور قیمتی کمرشل اراضی پر قبضہ مافیا کی بے باکانہ پیش قدمی نے تربت کے امن و امان اور مستقبل کے انتظامی نقشے کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مقامی شہریوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان اور نیب حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تربت میں جاری اس کھلم کھلا لوٹ مار کا فوری نوٹس لیا جائے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوراً ایک اعلیٰ سطحی بااختیار تحقیقاتی کمیٹی قائم نہ کی اور لینڈ مافیا سمیت ان کی پشت پناہی کرنے والے ریونیو افسران کے خلاف گرینڈ آپریشن نہ کیا، تو تربت کا پورا انتظامی ڈھانچہ تباہی کا شکار ہو جائے گا۔ عوامی حلقوں نے متنبہ کیا ہے کہ قبضہ مافیا کے خلاف بلاتفریق اور سخت سے سخت قانونی کارروائی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، بصورت دیگر سخت عوامی احتجاج کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *