متاثرہ طلبہ کاکیمبرج امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے پر شفاف تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ

اسلام آباد(این این آئی) اکاونٹبلیٹی فار کیمبرج کے سیکرٹری جنرل اکاونٹبلٹی فار کیمبرج فرحان قریشی، محب خان، ایکسپینشن آفیسر اکاونٹیبلٹی فار کیمبرج ملک یسین،انسٹیٹیوشن اوٹ ریچ افئسر اکاونٹیبلٹی فار کیمبرج مصطفی عاصم نے مطالبہ کیا ہے کہ کیمبرج امتحانات میںمبینہ لیک شدہ تمام پرچوں کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی جائیں،فارنزک رپورٹ کی بنیاد پر متاثرہ طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے،کیمبرج امتحانی نظام لیک ہونے والے پرچوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے،متاثرہ طلبہ کے نتائج کا منصفانہ جائزہ لے کر ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے کسی بھی ایماندار طالب علم کا تعلیمی مستقبل متاثر نہ ہو،مستقبل میں پرچے لیک ہونے سے روکنے کے لیے امتحانی نظام کی سیکیورٹی مزید موثر بنائی جائے، اگر بروقت فیصلہ نہ کیا گیا تو ہزاروں طلبہ کے نتائج اور بیرون ملک جامعات میں داخلے خطرے میں پڑ سکتے ہیں،جس سے ایماندار طلبہ کے نتائج اور مستقبل شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فرحان قریشی،محب خان، ملک یسین و دیگر نے الزام عائد کیا ہےکہ مئی/جون 2026 کے کیمبرج امتحانات کے متعدد پرچے امتحان سے قبل سوشل میڈیا، واٹس ایپ، ٹیلیگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر لیک ہوئے، پاکستان میں ہر سال تقریبا ساڑھے تین لاکھ طلبہ کیمبرج امتحانات دیتے ہیں، جبکہ ملک بھر میں 700 سے زائد تعلیمی ادارے اس نظام سے وابستہ ہیں، گزشتہ تین برسوں سے پرچے لیک ہونے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، تاہم اس سال صورتحال زیادہ سنگین رہی اور مبینہ طور پر 17 سے زائد پرچے متاثر ہوئے،انہوں نے کہا کہ پرچے لیک ہونے کے باعث گریڈ باونڈریز بڑھ جاتی ہیں، جس سے محنت کرنے والے طلبہ کے گریڈ متاثر ہوتے ہیں اور انہیں ملکی و غیر ملکی جامعات میں داخلوں کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔طلبا نے مزید کہا کہ اس معاملے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی، انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمینز (IBCC)، وزارت تعلیم اور دیگر متعلقہ اداروں سے متعدد ملاقاتیں کی جا چکی ہیں اور مبینہ لیک شدہ پرچوں کے شواہد، اسکرین ریکارڈنگز، ٹائم اسٹیمپس اور دیگر ڈیجیٹل مواد متعلقہ اداروں کو فراہم کیا ہے،طلبہ کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو بھی درخواستیں اور شواہد جمع کرائے گئے ہیں تاکہ فارنزک تحقیقات کے ذریعے حقیقت سامنے لائی جا سکے،طلبہ نےمطالبہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ مبینہ لیک شدہ تمام پرچوں کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی جائیں،فارنزک رپورٹ کی بنیاد پر متاثرہ طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے،کیمبرج امتحانی نظام لیک ہونے والے پرچوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے،متاثرہ طلبہ کے نتائج کا منصفانہ جائزہ لے کر ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے کسی بھی ایماندار طالب علم کا تعلیمی مستقبل متاثر نہ ہو،مستقبل میں پرچے لیک ہونے سے روکنے کے لیے امتحانی نظام کی سیکیورٹی مزید موثر بنائی جائے۔پریس کانفرنس کے دوران متاثرہ طلبا نے کہا کہ اگر بروقت فیصلہ نہ کیا گیا تو ہزاروں طلبہ کے نتائج اور بیرون ملک جامعات میں داخلے خطرے میں پڑ سکتے ہیں، اس لیے متعلقہ ادارے اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئےاہم اقدامات اٹھائیں، انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ فارنزک تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی ہوگی اور متاثرہ طلبہ کو انصاف ملے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *