زرعی انکم ٹیکس کے مقررہ اہداف کے حصول میں کسی قسم کی غفلت یا سستی برداشت نہیں کی جائے،ایڈیشنل کمشنر کوئٹہ ڈویژن آغا سمیع اللہ

کوئٹہ(ویب ڈیسک)ایڈیشنل کمشنر کوئٹہ ڈویژن آغا سمیع اللہ کی زیرِ صدارت لینڈ ریونیو کلیکشن اور زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں کوئٹہ ڈویژن کے تحصیلداران، نائب تحصیلداران، سب رجسٹرارز اور دیگر ریونیو افسران و اہلکاروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر متعلقہ ریونیو افسران نے ایڈیشنل کمشنر کو اپنی گزشتہ چھ ماہ کی کارکردگی اور پروگریس رپورٹس پیش کیں، جن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل کمشنر کوئٹہ ڈویژن آغا سمیع اللہ نے کہا کہ لینڈ ریونیو کلیکشن اور زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے اہداف کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور ٹیکس ریکوری کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ زرعی انکم ٹیکس کے مقررہ اہداف کے حصول میں کسی قسم کی غفلت یا سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے ہدایت کی کہ محکمہ زراعت سے سولرائزیشن اسکیم سے استفادہ کرنے والے تمام زمینداروں کی فہرستیں فوری طور پر حاصل کی جائیں اور ایسے زمینداروں کی نشاندہی کی جائے جو حکومتی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے باوجود اپنے واجب الادا زرعی ٹیکس اور دیگر سرکاری واجبات جمع نہیں کرا رہے۔آغا سمیع اللہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے زمینداروں کو سولرائزیشن، گرین ٹریکٹر اسکیم، کھاد، بیج اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم اس کے ساتھ زمینداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے قانونی و مالی واجبات بروقت ادا کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والے زمینداروں کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور اس حوالے سے متعلقہ ریکارڈ مرتب کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ اپنے اضلاع میں مختلف سرکاری زرعی اسکیموں سے استفادہ کرنے والے زمینداروں کی فہرستیں جلد از جلد مرتب کرکے پیش کی جائیں تاکہ ٹیکس واجبات کی جانچ اور ضروری قانونی کارروائی کی جا سکے۔ انہوں نے ریونیو افسران کو یہ بھی ہدایت کی کہ زمیندار ایکشن کمیٹی کے عہدیداران سے ملاقاتیں کرکے ٹیکس ادائیگی کی اہمیت اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق آگاہی فراہم کریں۔اجلاس میں کسان رجسٹریشن کارڈ اور دیگر سرکاری سہولیات سے استفادہ کرنے والے ایسے افراد کے خلاف بھی کارروائی کے امور کا جائزہ لیا گیا جو اپنے واجب الادا ٹیکس یا سرکاری واجبات ادا نہیں کر رہے۔ ایڈیشنل کمشنر نے واضح کیا کہ حکومتی سہولیات سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ قانونی ذمہ داریوں کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔اجلاس میں تحصیل دفاتر میں پرائیویٹ افراد کی مداخلت اور ایجنٹ مافیا کے خلاف کارروائی کے حوالے سے بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ تحصیل دفاتر کے اچانک دورے کریں اور اگر کسی غیر متعلقہ یا پرائیویٹ فرد کی مداخلت پائی جائے تو ذمہ داران کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔آغا سمیع اللہ نے ریونیو اسٹاف کو ہدایت کی کہ وہ زرعی انکم ٹیکس کی وصولی پر خصوصی توجہ دیں اور اپنی ماہانہ ریکوری رپورٹس باقاعدگی سے جمع کرائیں تاکہ ہر تحصیل کی کارکردگی کا ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے تحصیلداران اور ریونیو افسران کی کارکردگی کو نمایاں کیا جائے گا، جبکہ ناقص کارکردگی کی صورت میں ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ڈیجیٹلائزیشن کے نظام کے تحت ریونیو ریکارڈ اور رپورٹس کو جلد از جلد مکمل کرکے پیش کیا جائے تاکہ واجبات کی وصولی کے لیے متعلقہ زمینداروں کو بروقت نوٹسز جاری کیے جا سکیں۔ایڈیشنل کمشنر نے عوامی شکایات پر فوری کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ ان پر مقررہ وقت کے اندر کارروائی کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو نظام میں شفافیت، میرٹ اور عوام کو بروقت سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا تمام متعلقہ افسران و اہلکاروں کی ذمہ داری ہے۔اجلاس کے اختتام پر لینڈ ریونیو کلیکشن، زرعی انکم ٹیکس، کسان رجسٹریشن، ریونیو ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، تحصیل دفاتر میں ایجنٹ مافیا کے خاتمے اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے حوالے سے متعلقہ افسران کو واضح اہداف اور سیکورٹی سمیت دیگر ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *