Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

کوئٹہ(ویب ڈیسک) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاک ایران اعلیٰ سطحی مذاکرات علاقائی امن، بارڈر سیکیورٹی اور معاشی ترقی کیلئے بریک تھرو ہیں تہران مذاکرات سے دونوں ممالک کے سفارتی، معاشی اور دفاعی تعلقات کو نئی جلا ملے گی پاک ایران بارڈر مینجمنٹ اور بارڈر مارکیٹس کے تحرک سے بلوچستان کی معاشی بحالی اور مقامی آبادی کو روزگار میسر آئے گا. 900 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد کو امن اور تجارت کی راہداری بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔یہا جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہاکہ تہران میں پاکستان اور ایران کے درمیان ہونیوالے اعلیٰ سطحی مذاکرات، بالخصوص وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقاتوں کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے معاشی اور سیکیورٹی مستقبل کے لیے انتہائی اہم اور خوش آئند پیشرفت ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے مابین دیرینہ اور مضبوط تاریخی، ثقافتی اور دینی روابط قائم ہیں۔ تہران میں ہونیوالی یہ اعلیٰ سطحی بات چیت دوطرفہ تعلقات کو مزید پائیدار اور ٹھوس بنیادیں فراہم کرے گی۔ بارڈر سیکیورٹی پر دوطرفہ تعاون میں اضافے سے سرحد کے آر پار سمگلنگ، غیر قانونی سرگرمیوں اور دہشت گردی کے انسداد میں مدد ملے گی، جس کا براہِ راست فائدہ بلوچستان کے سرحدی اضلاع، مقامی آبادی اور مجموعی طور پر ملک کے امن و امان کو ہوگا۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ دونوں برادر ممالک کے مابین قانونی تجارت کے راستے کھلے رکھنا اور ‘بارڈر مارکیٹس’ کو فعال بنانا قومی معیشت کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ اس سے نہ صرف پاکستان کے زرمبادلہ اور قانونی تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ سرحد کے دونوں جانب آباد شہریوں کیلئے روزگار کے وسیع تر مواقع پیدا ہوں گے۔ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں مسلم امہ کے دو اہم اور بااثر ممالک کا ایک پیج پر ہونا علاقائی رابطہ کاری اور امن و استحکام کا ضامن ہے۔ پاکستان اور ایران مل کر خطے کو درپیش چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کر سکتے ہیں۔