جرمنی نے یورپ میں حماس تنظیم سے مربوط اسلحہ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا

برلن (انٹر نیشنل ڈیسک)جرمنی میں وفاقی استغاثہ نے فلسطینی تنظیم حماس سے تعلق اور ریاست کی سکیورٹی کیلئے خطرہ بننے والے خطرناک پر تشدد اقدام کی منصوبہ بندی کے شبہے میں برلن میں سات افراد پر فرد جرم عائد کی ہے۔ تفتیش کاروں کے مطابق یہ مقدمہ ایک ایسے نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتا ہے جو جرمنی اور آسٹریا میں ممکنہ حملوں کی تیاری کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی اور ان کے ذخیرہ اندوزی کا کام کر رہا تھا۔ استغاثہ نے بتایا کہ مشتبہ افراد نے حماس کی اعلی قیادت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، اکتوبر 2025 میں متوقع ایک حملے کی تیاری کے سلسلے میں ایک خود کار رائفل، 13 پستول اور 700 سے زائد کارتوس حاصل کیے تھے، جس کا ہدف اسرائیلی نمائندے، یہودی یا اسرائیل حامی افراد تھے۔یہ مقدمہ جرمن اور وسیع تر یورپی تحقیقات کے دائرہ کار میں سامنے آیا ہے، جو یورپی ممالک میں ہتھیاروں کی نقل و حمل اور ذخیرہ اندوزی کے لیے خفیہ لوجسٹک ڈھانچہ قائم کرنے کی مشتبہ کوششوں سے متعلق ہیں، تاکہ انہیں بعد میں اسرائیلی اور یہودی تنصیبات کے خلاف ممکنہ حملوں میں استعمال کیا جا سکے۔تحقیقات کا دائرہ صرف جرمنی کے اندر ہتھیاروں کی خریداری تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ دوسرے یورپی ممالک تک جانے والے راستوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ گذشتہ مارچ میں جرمن حکام نے قبرص سے ملک بدر کیے جانے کے بعد ایک شخص کو حماس سے وابستہ ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شبہے میں حراست میں لے رکھا تھا۔ اسے ایک ایسے نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات کے دائرے میں یورپی وارنٹ گرفتاری کے تحت روکا گیا تھا جو جرمنی اور یورپ میں ممکنہ حملوں کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔اسی طرح جرمن حکام نے اکتوبر 2025 میں برلن میں تین افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا، جن پر شبہہ تھا کہ وہ حماس کے لیے کام کر رہے تھے اور اسرائیلی یا یہودی اہداف پر حملے کرنے کے لیے ہتھیار خرید رہے تھے۔بعد ازاں نومبر میں ایک اور مشتبہ شخص کی گرفتاری کا اعلان کیا گیا، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے تنظیم سے جڑے ایک نیٹ ورک کو منتقل کرنے کے شبہے میں ایک خود کار ہتھیار، آٹھ پستول اور 600 سے زیادہ کارتوس حاصل کیے تھے۔اسی طرح مارچ 2026 میں برلن کی ایک عدالت نے حماس سے جڑے ایک سیل سے تعلق اور یورپ میں حملوں کے لیے ممکنہ استعمال کی غرض سے ہتھیار ذخیرہ کرنے کے جرم میں چار افراد کو ساڑھے چار سے چھ سال تک قید کی سزا سنائی۔عدالت نے بتایا کہ ان افراد نے حماس کے عسکری ونگ کے لیے پولینڈ، بلغاریا اور ڈنمارک سمیت کئی ممالک میں اسلحہ خانے قائم کرنے پر کام کیا، جبکہ آسٹریا میں بھی حکام کو ایک اسلحہ چھپانے کی جگہ ملی جسے تحقیقات کے مطابق اسی ڈھانچے سے منسلک بتایا گیا۔یہ پیش رفت سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد سے جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کی طرف سے سکیورٹی اقدامات سخت کرنے کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔اسی سال دسمبر میں، جرمنی، ڈنمارک اور ہالینڈ نے یورپ میں یہودی اداروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کے شبہے میں سات افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا اور جرمن استغاثہ کا کہنا تھا کہ ان میں سے کچھ کو حماس کے رہنماں کی طرف سے ہتھیاروں کی تلاش اور انہیں برلن منتقل کرنے کے احکامات ملے تھے۔یہ سلسلہ وار مقدمات یورپی سکیورٹی ایجنسیوں کے اس رجحان کی عکاسی کرتے ہیں کہ ان کی توجہ صرف ممکنہ حملہ آوروں کا پیچھا کرنے کے بجائے رسد، ذخیرہ اندوزی اور نقل و حمل کے نیٹ ورک کو ختم کرنے پر مرکوز ہے۔ ان سات افراد کے خلاف نئے الزامات تا حال عدالتی کارروائی کے زیرِ اثر ہیں، اور جرمن عدالتیں شواہد کی بنیاد پر ان کی مجرمانہ ذمہ داری کا تعین کریں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *