Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

بیروت(انٹر نیشنل ڈیسک)یورپی یونین کے ذرائع نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں فورسزکی تعیناتی کاکوئی ارادہ نہیں، یورپی یونین کے نزدیک ترجیح لبنانی ریاستی اداروں کی حمایت کرنا ہے۔ میڈیارپورٹ کے مطاق لبنان کے جنوبی علاقوں میں کشیدگی پر قابو پانے کے حکومت کی طرف سے کیے جانے والے رابطوں کیساتھ دسمبر 2026 کے آخر میں یونیفل فورسز کی مدتِ تعیناتی کے قریب آنے والے خاتمے کے تناظر میں وہاں بین الاقوامی موجودگی کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیلئے یورپی شراکت داروں اور مغربی دارالحکومتوں کے ساتھ مشاورت کی جا رہی ہے اس سلسلے میں جنوبی لبنان میں کسی بھی سکیورٹی خلا سے بچنے کی کوششوں کے دائرہ کار میں مغربی حلقوں میں ایک یورپی کثیر القومی فورس کے قیام کا خیال پیش کیا گیا ہے جو یورپی یونین کے مینڈیٹ اور فرانسیسی و اطالوی حمایت کے ساتھ کام کرے تاہم اس تجویز کو بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے، جن میں سب سے نمایاں امریکی حمایت کا فقدان اور کسی بھی یورپی، بالخصوص فرانسیسی کردار کے لیے اسرائیل کی مخالفت ہے، خواہ وہ اقوام متحدہ کے ماتحت فورس ہو یا یورپی یونین کے۔ان حقائق کی روشنی میں یورپی بحث ایک متبادل راستے کی طرف بڑھ رہی ہے جو لبنانی ریاست اور اس کے سکیورٹی اداروں کی حمایت کو مضبوط بنانے پر مبنی ہے تاکہ وہ اپنی رِٹ قائم کرنے اور استحکام کو فروغ دینے کے قابل ہو سکیں۔اس پس منظر میں ایک یورپی سفارتی ذریعے نے واضح کیا کہ یورپی یونین کے نزدیک ترجیح لبنانی ریاستی اداروں کی حمایت کرنا ہے ساتھ یہ موقف ظاہر کیا کہ ان اداروں کو مضبوط بنانا جنوبی لبنان میں نئی یورپی فورسز کی تعیناتی سے زیادہ کارآمد ہے۔ذریعے نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ یورپی یونین لبنانی ریاست کے ہتھیاروں پر اجارہ داری کے اصول پر قائم ہے، کیونکہ وہی اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے واحد ذمہ دار فریق ہے۔مزید برآں یہ کہ لبنانی ریاست کی حمایت اور اس کے سکیورٹی اداروں، جن میں سر فہرست فوج ہے،کی صلاحیتوں کو تقویت دینا یورپی یونین کا ایک بنیادی ہدف ہے۔اسی طرح اس جانب بھی اشارہ کیا گیا کہ اس حمایت کی ترجمانی ایک خصوصی امدادی پروگرام کے ذریعے کی جائے گی جس میں کئی شعبے شامل ہوں گے۔ اس پر عمل درآمد کا آغاز سال 2026 کے آخر یا 2027 کے آغاز میں ہو گا۔ذرائع کے مطابق اس پروگرام میں لبنانی مسلح افواج، خصوصا فوج کو ایسے آلات اور مشینری فراہم کرنا شامل ہوگا جن میں بالخصوص متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹانے کے لیے کرین سے لیس ٹرک شامل ہیں، اس کے علاوہ طبی مواد اور لوازمات بھی مہیا کیے جائیں گے۔اس میں خصوصی تربیتی پروگرام بھی شامل ہیں، جن میں ڈرونز کا چلانا بھی شامل ہے جو جدید فوجی صلاحیتوں کا ایک بنیادی جزو بن چکے ہیں، اس کے علاوہ سرحدوں کی نگرانی اور کنٹرول کی مہارتوں کو بہتر بنانا بھی اس کا حصہ ہے۔اسی سلسلے میں ذریعے نے انکشاف کیا کہ یورپی یونین نے سال 2023 سے لے کر اب تک لبنان میں سکیورٹی کے شعبے کو سپورٹ کرنے کے لیے تقریباً 22کروڑ یورو فراہم کیے ہیں، جن میں سے تقریباً 18.2کروڑ یورو لبنانی فوج کے آلات اور ساز و سامان کے لیے مخصوص کیے گئے تھے۔ذریعے نے توجہ دلائی کہ یورپی یونین کے ستائیس ممالک بسا اوقات لبنان کے سلسلے میں متفقہ لائحہ عمل اپناتے ہیں لیکن کچھ ممالک جیسے کہ فرانس اور اٹلی، یورپی یونین کے اداروں سے الگ ہو کر آزادانہ طور پر بھی خصوصی اقدامات شروع کر سکتے ہیں۔انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ یورپی حمایت صرف لبنانی فوج تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں مشترکہ سکیورٹی اور دفاعی پالیسی کے مشنز کے ذریعے سکیورٹی فورسز اور عدلیہ کے شعبے، بشمول فوجداری انصاف بھی شامل ہیں۔رواں ماہ کے آغاز میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا الاس نے اعلان کیا تھا کہ بلاک کے 10 سے زائد رکن ممالک لبنانی فوج کو مشاورت اور تربیت فراہم کرنے کیلئے ایک نئے فوجی اور سول مشن میں وسائل اور مہارتیں فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔کایا الاس نے یورپی دفاعی وزرا کے اجلاس کے بعد اس بات کی بھی تصدیق کی کہ یورپی یونین کا مقصد یونیفل فورسز کی جگہ لینا نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقصد لبنانی مسلح افواج کی صلاحیتوں کو بڑھانا اور ریاست کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنی پوری سرزمین پر سکیورٹی فراہم کر سکے۔ ساتھ یہ اشارہ بھی کیا گیا کہ اس منصوبے پر کام مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔