امیر مولانا عبدالرحمن رفیق کا یہ بیان بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی موجودہ ابتر انتظامی اور بلدیاتی صورتحال کی حقیقی عکاسی کرتا ہے

کوئٹہ(ویب ڈیسک)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سیکرٹری مالیات حاجی صالح محمد، مفتی رضا خان، حاجی ظفراللہ کاکڑ، میر سرفراز شاہوانی، میر حشمت لہڑی، سیٹھ اجمل بازئی، سالار مولوی علی جان، مولانا سید سعداللہ آغا اور مولوی نقیب اللہ ملاخیل نے کہا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو بنیادی شہری سہولیات سے محروم رکھنا اور انتظامی بدحالی کا شکار بنانا نہ صرف حکومتی غفلت کا مظہر ہے بلکہ صوبائی دارالحکومت کے شایانِ شان بھی نہیں۔ عوام طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ گیس کی عدم دستیابی پانی کی قلت اور دیگر بنیادی شہری سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ شہر کے متعدد علاقوں میں رات بھر بجلی کی بندش نے معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے ہیں جبکہ گیس کی فراہمی میں تعطل نے روزمرہ زندگی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو نعروں دعووں اور نمود و نمائشی کے بجائے بجلی گیس صاف پانی صفائی اور پْرامن ماحول جیسی بنیادی سہولیات درکار ہیں۔ حکمرانوں کی اولین ترجیح عوام کو ریلیف دینا اور ان کے بنیادی مسائل کا حل ہونی چاہیے مگر افسوس کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ذمہ داران عوامی مشکلات سے لاتعلق دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے۔ کوئٹہ کے شہری بجلی اور گیس کی مسلسل بندش پانی کی قلت اور صفائی کے ناقص نظام کے باعث ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر کوئٹہ میں بجلی و گیس کی بلاجواز لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرے۔ محض بیانات اور یقین دہانیوں سے عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ بلوچستان کا دارالحکومت ہے، اسے بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا عوام کے ساتھ ناانصافی اور انتظامی غفلت کے مترادف ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *