Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

تر بت(ویب ڈیسک) نیشنل پارٹی کے مرکزی صدراور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی کے کارکنوں کو ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفادات، قومی سیاست اور قومی سوچ کو اپنانا ہوگا۔یہ با ت انہوں نے نیشنل پارٹی کیچ کی ضلعی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اس وقت مختلف نوعیت کی انتہاپسندی اور بدامنی کا شکار ہے، جس کے باعث عام شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ ایک جانب نوشکی اور دیگر علاقوں میں لوگوں کو اپنے گھروں سے منتقل کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں اور باغات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب قومی شاہراہوں کی بندش، ناکوں کے قیام، پلوں کو نقصان پہنچانے اور شہریوں کی گاڑیاں چھیننے کے واقعات بھی تشویشناک ہیں۔انہوں نے کہا کہ قیمتی گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے، عام شہریوں، نوجوانوں اور ملازمین کو اغوا کرنے، ان پر مبینہ طور پر انسانیت سوز تشدد کرنے اور تاوان وصول کرنے جیسے واقعات نے بلوچستان کے عوام میں شدید خوف اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔ شہریوں سے گاڑیاں اور ایمبولینسیں چھیننے کے واقعات بھی قابلِ مذمت ہیں۔رہنماؤں نے کہا کہ ایسے اقدامات کے نتیجے میں بلوچستان کے عوام سنگین معاشی اور سماجی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ نوجوانوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے، کاروبار تباہ ہو رہے ہیں اور اندرونِ بلوچستان آمدورفت کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کو کسی بھی صورت تشدد، بدامنی اور عدم تحفظ کا نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ ملک اس وقت شدید معاشی دباؤ اور امن و امان کی خراب صورتحال سے دوچار ہے، لیکن حکمران ان بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینے کے بجائے ملک کو مزید تقسیم کرنے کی پالیسیوں پر گامزن نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو برطانوی دور کی ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کی پالیسی سے اجتناب کرنا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ قومی وحدتوں کی تقسیم کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ نیشنل پارٹی نئے صوبوں کے قیام کے نام پر قومی وحدتوں کی تقسیم کی پالیسی کو مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی وحدتوں کے حوالے سے ہمارا سیاسی سوچ اور رویہ سندھ کے عوام کی طرح ہونا چاہیے، جو اپنی تاریخی اور قومی وحدت کے تحفظ کے لیے واضح موقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی وحدتوں کی تقسیم کی باتیں ملک کو مزید کمزور کرنے کی سازش کے مترادف ہیں۔رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں سرحدی تجارت کی بندش نے لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کر دیا ہے۔ سرحدی علاقوں کے عوام کا روزگار براہِ راست تجارت سے وابستہ ہے، لہٰذا سرحدی تجارت کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور عوام کی آمدورفت اور روزگار میں رکاوٹ بننے والی غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی ایک جمہوری اور سیاسی جماعت ہے جو اپنے تمام سیاسی اور قومی مقاصد کے حصول کے لیے پرامن اور جمہوری سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔انہوں نے شہید ڈاکٹر لعل بخش بلوچ اور شہید محمد حسین بلوچ کی قومی، سیاسی اور جمہوری جدوجہد کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد قومی اور جمہوری سیاست کے کارکنوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یاد رہے کہ نیشنل پارٹی کیچ کا ضلعی کونسل اجلاس انہی شہداء کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا کو مثبت، ذمہ دارانہ اور مؤثر انداز میں استعمال کریں تاکہ نیشنل پارٹی کا سیاسی پروگرام، قومی سوچ اور عوامی مسائل پر پارٹی کا موقف گھر گھر تک پہنچایا جا سکے۔اجلاس سے نیشنل پارٹی کے دیگر مرکزی اور ضلعی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور تنظیمی امور، بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور عوام کو درپیش مسائل پر اظہارِ خیال کیا۔اجلاس سے رکن قومی اسمبلی پھلین بلوچ، سینیٹر اکرم دشتی، ریٹائرڈ جسٹس شکیل احمد بلوچ، میئر تبت بلخ شیر قاضی، ایڈوکیٹ ناظم الدین، چیرمین بی ایس او بوھیر صالع بلوچ، محمدجان دشتی، نوید تاج، عبدالحفیظ علی بخش اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ نیشنل پارٹی کیچ کی ضلع کونسل کا اجلاس زیر صدارت ضلعی صدر یونس جاوید سرکٹ ھاوس تربت میں منعقد ہوئی۔ جس میں پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر مالک بلوچ، سنیٹرجان محمد بلیدئی اور ممبر قومی اسمبلی پھلین بلوچ نے بطور مہمانانِ خاص شرکت کی۔ اجلاس میں قائدیں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوئی جس کی سعادت تحصیل گوکدان کے صدر آصف فقیر نے حاصل کی۔ اجلاس تین سیشنز پر مشتمل تھا۔ پہلے سیشن میں ضلعی جنرل سکریٹری سرتاج گچکی نے سکریٹری رپورٹ پیش کیا اِس کے بعد درج زیل تحصیل نمائیندے تحصیل تربت ماسٹر طارق تحصیل آپسر احسان درا زئی، تحصیل گوکدان آصف فقیر، تحصیل کلاتک اسلام بلوچ، تحصیل کھڈان کہدہ عزیزاللہ، تحصیل ناصر آباد عبدالقیوم،تحصیل تمپ مسلم یعقوب، تحصیل بل نگور بہار بلوچ، تحصیل ہوشاپ ملا برکت، تحصیل شہرک وحید اختر، تحصیل بلیدہ محمد عظیم، ڈنڈار کولواہ حمید بلوچ اور بالگترسے سخی بلوچ نے اپنے اپنے رپورٹ پیش کئے۔ دوسرے سیشن میں کارکنان نے بحث مباحثہ اور سوالات کئے۔