Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کوئٹہ(ویب ڈیسک) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ نیپال میں گلیشیئر پھٹنے سے ہونے والی تباہی پورے ہمالیائی خطے کے لیے ایک سنگین انتباہ ہے، پاکستان بھی اس خطرے سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہزاروں گلیشیئرز موجود ہیں، جبکہ گلگت بلتستان اور بالائی خیبرپختونخوا میں موسمیاتی تبدیلی، بڑھتے درجہ حرارت، غیر معمولی ہیٹ ویوز اور بے ترتیب بارشوں کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نئی گلیشیائی جھیلیں بن رہی ہیں اور موجودہ جھیلوں میں پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ کسی جھیل یا قدرتی بند کے اچانک ٹوٹنے سے چند گھنٹوں میں تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے، جس سے آبادیوں، سڑکوں، پلوں، بجلی گھروں اور زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ خطرناک گلیشیائی علاقوں کی مسلسل سیٹلائٹ نگرانی، جدید ارلی وارننگ سسٹم، محفوظ انخلا کے راستوں اور مقامی آبادی کی تربیت کو فوری ترجیح دی جائے۔ مستقبل کے ڈیموں، شاہراہوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی منظوری سے قبل موسمیاتی اور گلیشیائی خطرات کا جامع جائزہ بھی لازمی قرار دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بروقت تیاری، سائنسی منصوبہ بندی اور مؤثر ادارہ جاتی تعاون ہی ممکنہ جانی و مالی نقصان کو کم کر سکتے ہیں۔ نیپال کا واقعہ پاکستان کے لیے بھی ایک واضح وارننگ ہے، جسے نظرانداز کرنا کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ بن سکتا ہو۔