مطالبات کی منظوری میں تاخیری حربے استعمال ہوئے تو تحریک وسیع ہو جائیگی ،امیر جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس

اسلام آباد(ویب ڈیسک)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے عوام کے مطالبات کی منظوری میں تاخیر سے کام لیا تو تحریک کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی طرف جائیں گے، کئی مقامات پر دھرنے جاری ہیں، پیر کو حکومت سے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوگا۔اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکمرانوں اور بیوروکریسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک پر اس وقت فارم 47 کا غیر آئینی نظام قابض ہے، جس پر عوام کو کوئی اعتماد نہیں اور جن کی نااہلی و عیاشیوں کا بوجھ ٹیکسوں کی صورت میں غریب عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ نائب امیر میاں محمد اسلم اور امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں کو 21 دن ہو چکے ہیں اور سوات سے لے کر بلوچستان کے 20 مقامات سمیت ملک بھر میں درجنوں دھرنے جاری ہیں۔ سوات میں بڑے جلسے کے بعد دھرنے کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ پیر سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بات چیت اور دھرنے ساتھ ساتھ چلیں گے اور جماعت اسلامی معاہدہ کر کے گھر بیٹھنے والی نہیں بلکہ عوامی دباؤ برقرار رکھے گی۔ اگر جماعت اسلامی آواز نہ اٹھاتی تو ملک میں پیٹرول 500 روپے فی لیٹر تک پہنچا دیا جاتا۔ جماعت اسلامی کے دباؤ کے باعث ہی بجلی کے فی یونٹ میں 10 سے 12 روپے کی کمی ممکن ہوئی اور آئی پی پیز سے مذاکرات کے نتیجے میں قومی خزانے کو 4300 ارب روپے کا فائدہ پہنچا، جبکہ حکومت کا پیٹرولیم لیوی کو 80 روپے پر برقرار رکھنا بھی عوامی تحریک کا ہی نتیجہ ہے۔معاشی صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان پر 1 لاکھ 10 ہزار ارب روپے کا قرض چڑھ چکا ہے، جس میں سے 7 ہزار ارب روپے مقامی بینکوں کا قرض ہے اور حکومت صرف بینکوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے عوام پر ظلم ڈھا رہی ہے۔ حکومت سالانہ 8 ہزار ارب روپے صرف سود کی مد میں ادا کرتی ہے، جبکہ پالیسی ریٹ میں صرف 1 فیصد اضافے سے قرضے کا بوجھ 594 ارب روپے بڑھ جاتا ہے۔ اگر حکومت پالیسی ریٹ میں 3 فیصد کمی کر دے تو اسے عوام پر پیٹرولیم لیوی عائد کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ پیٹرولیم لیوی کا مصنوعات کی اصل قیمت سے کوئی تعلق نہیں اور عوام اب اس لیوی کے بھتے کی حقیقت سے مکمل آگاہ ہو چکے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کی صورت میں حکومت کو لیوی ختم کرنی چاہیے اور ریفائنریز و آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بھاری مارجن کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔انہوں نے ایف بی آر اور تواناءِی کے شعبے کی بدعنوانیاں اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کی نااہلی کے باعث 1300 ارب روپے کی سیدھی سیدھی کرپشن ہو رہی ہے اور 24 ہزار ارب روپے کی خطیر رقم کا عملہ مکمل طور پر نااہل ثابت ہوا ہے۔ ایل این جی کی عدم فراہمی کے باوجود ری گیسفیکیشن پلانٹس کو ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بجلی، تیل اور گیس سمیت ہر شعبے پر مافیا کا قبضہ ہے اور چینی کے معاملے میں بھی اسی مافیا کو نوازا جا رہا ہے۔ اگر اب بھی آئی پی پیز کے معاہدو ں پر نظرثانی کی جائے تو بجلی مزید سستی ہو سکتی ہے۔تعلیمی اور اجتماعي مسائل پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے پمز ہسپتال کے واقعے اور پنجاب کے نویں جماعت کے نتائج کا حوالہ دیا، جہاں 50 فیصد بچے فیل ہو گئے، جو موجودہ حکمرانوں کی تعلیم دشمن پالیسیوں کا ثبوت ہے۔ پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس جماعت نے ہمیشہ ساز باز کر کے جموریت کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ ایم کیو ایم ہر سیٹ اپ میں فٹ ہونے والی جماعت ہے۔ کراچی کے لوگوں کے مسائل حل نہ ہونے کے باعث وہ الگ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی عوامی مطالبات کے حق میں پاکستان کے 5 کروڑ عوام سے دستخطی مہم چلائے گی۔ جماعت اسلامی پرامن آئینی و جمہوری احتجاج پر یقین رکھتی ہے اور زبردستی کے بجائے عوامی طاقت سے حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے گی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے حق کی بھی حمایت کی اور مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر مقامی حکومتوں کا نظام بحال کرے اور روٹی کی قیمت 10 روپے مقرر کر کے عوام کو فوری سانس لینے کا موقع فراہم کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *