ایک نہیں، ہزار مقدمات بھی درج کیے جائیں،ظلم وجبر کے خلاف،عوامی حقوق کے حصول کی بات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا،رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

کوئٹہ(ویب ڈیسک) امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے وحق دوتحریک گوادر کے قائدمولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے اپنے خلاف درج مقدمے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک نہیں، ہزار مقدمات بھی درج کیے جائیں،ظلم وجبر کے خلاف،عوامی حقوق کے حصول کی بات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا مقدمات سے انہیں خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا، بلوچستان اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرتارہوں گا۔ اس قسم کے مقدمات کو اپنے لیے اعزاز سمجھتاہوں اور ان شاء اللہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔دریں جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی بیان میں کہاگیاہے کہ گوادرمونڈی چیک پوسٹ پرعوام الناس ٹرانسپورٹرزومسافروں کیساتھ زیادتی وظلم کے خلاف جماعت اسلامی کے صوبائی امیرایم پی اے گوادرحق دوتحریک کے قائدمولانا ہدایت الرحمن کے خلاف ایف آئی آر کی شدید مذمت،اس قسم کے منفی ہتھکنڈے جھوٹے مقدمات حق وسچ وحقوق کے حصول کی جدوجہد سے نہیں رکھواسکتے۔جماعت اسلامی کے صوبائی بیان میں اس ایف آئی آرکو عوامی آواز کو دبانے کی ناکام کوشش قرار دیا ہے۔جماعت اسلامی بلوچستان کے امیرمولانا ہدایت الرحمن بلوچ اسمبلی کے اندروباہرہرجگہ مظلوم عوام کی واحدتواناآوازہے۔بلوچستان میں ہرجگہ ہرظلم وجبرزیادتیوں کے خلاف ہرجگہ آوازبلندکرتی رہے گی مولانا ہدایت الرحمن نے پہلے اس قسم کے جھوٹے مقدمات پریشروانصافی کے خلاف آوازبلندکیاہے آئندہ بھی مولانا ہدایت الرحمن کی قیادت میں جدوجہد جاری رہے گی۔بیان میں کہاگیاہے کہ مولانا ہدایت الرحمٰن کسی ادارے یا فرد کے خلاف اشتعال انگیزی نہیں بلکہ گوادرمیں مونڈی چیک پوسٹ پر آنے والی ماؤں، بہنوں اور بلوچ خواتین کے ساتھ عزت، احترام اور اسلامی و بلوچی روایات کے مطابق برتاؤ یقینی بنانے کامطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی عزت و حرمت کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا جرم نہیں بلکہ ایک منتخب عوامی نمائندے کی آئینی، اخلاقی اور عوامی ذمہ داری ہے۔عوامی شکایات کو متعلقہ حکام تک پہنچانا اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانا جمہوری معاشرے کا بنیادی تقاضا ہے۔عوامی نمائندوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کے بجائے عوامی شکایات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اور مسائل کو بات چیت اور قانون کے دائرے میں حل کیا جائے۔انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کے خلاف درج ایف آئی آر فوری طور پر واپس لی جائے اور مونڈی چیک پوسٹ سمیت تمام چیک پوسٹوں پر شہریوں، بالخصوص خواتین کے ساتھ باعزت اور شائستہ رویے کو یقینی بنایا جائے۔جماعت اسلامی عوام کے بنیادی حقوق، عزت و وقار، آزادیِ اظہار اور خصوصاً ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی حرمت کے تحفظ کے لیے ہر آئینی و قانونی فورم پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔حکومت ادارے عوامی آواز کو دبانے کے بجائے عوامی شکایات کا ازالہ کیا جائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *