شام کے وزیر خارجہ کی موساد سربراہ سے ملاقات، کشیدگی کم کرنے کی کوشش امریکی نگرانی میں مشترکہ آپریشن روم قائم کرنے پر تبادلہ خیال

دمشق(انٹرنیشنل ڈیسک)باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ شام کے ابو الظہور فضائی اڈے پر حالیہ اسرائیلی فضائی حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کے تحت اعلی سسطح کے شام اور اسرائیلی حکام نے اتوار کو ایک اجلاس منعقد کیا۔عرب ٹی وی کے مطابق ذرائع نے انکشاف کیا کہ شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے اردن میں اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے سربراہ رومن گوپ مین سے ملاقات کی۔ 18 اگست کو اسرائیل کے شام کے ایئر بیس پر حملے کے بعد دمشق اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا۔اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی شام کی جانب سے کوئی فوری ردِ عمل سامنے آیا۔ یہ ایک نمایاں پیش رفت ہے۔ الشیبانی اور گوپ مین نے اردن میں اپنی ملاقات کے دوران شام اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور فریقین کے درمیان حالات کی خرابی کو روکنے کے مقصد سے امریکی نگرانی میں ایک مشترکہ آپریشن روم قائم کرنے پر تبادل خیال کیا۔یہ ملاقات اس انتہائی حساس وقت پر ہوئی جب اسرائیل نے کہا کہ ابو الظہور ایئر بیس پر حملہ اس مقام پر ممکنہ ترکیہ کی عسکری سرگرمی کے بارے میں اس کے خدشات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ تاہم دمشق اور انقرہ نے اس ایئر بیس کو ترکیہ کی تعیناتی کے مقام میں تبدیل کرنے کے کسی بھی انتظام کی تردید کردی ہے۔اسعد الشیبانی نے اس سے پہلے اپنے پہلے کے بیان میں تصدیق کی تھی کہ شام نے اسرائیل کو مطلع کر دیا تھا کہ یہ ایئر بیس ترکیہ کا بیس نہیں بنے گا لیکن اس کے باوجود حملہ کردیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *