Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

اسلام آباد(ویب ڈیسک) بانی پی ٹی آئی کا نجی ہسپتال سے علاج کے احکامات کے بعد عام قیدیوں نے بھی عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں نے نجی اسپتالوں سے علاج اور اہل خانہ سے بات کروانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کیں۔۔جسٹس محمد آصف نے قیدیوں الیاس خان، محمد اسماعیل خان اور اویس الطاف کی درخواستوں پر سماعت کی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ حکام کو نوٹس کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ جیل سے پیراوائز کمنٹس طلب کرلیےبیرسٹر اختر چھینہ نے دلائل دیے کہ درخواست گزار ہیموفیلیا بیماری کا شکار ہے اور انٹرنل بلیڈنگ ہے، دو ماہ میں 10 مرتبہ ہسپتال لایا گیا لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا، اس مسلہ کا علاج ابھی تک پاکستان میں صرف شفاءہسپتال میں ہی ممکن ہے۔بیرسٹر اختر چھینہ نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اگر بیماری کا علاج سرکاری ہسپتال میں نہیں تو قیدی کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ فیصلے نے واضح کر دیا کہ علاج کے اخراجات اہل خانہ برداشت کر سکتے ہیں، سپریم کورٹ فیصلے پر انحصار کرتے ہوئے استدعا ہے کہ میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، اگر لیور ٹرانسپلانٹ سرکاری اسپتال میں میسر نہ ہو تو کیا اس قیدی کو پرائیویٹ ہسپتال میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔درخواست گزار اویس الطاف کے وکیل سید جعفر نے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہو کر دلائل دیے کہ درخواست گزار اویس الطاف کو بخار اور دل کا مرض ہے، مناسب علاج معالجہ کروانا قیدی کا بنیادی حق ہے، سرکاری ہسپتال میں علاج ممکن نہیں لہٰذا شفاءاسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔تیسرے قیدی کے وکیل نے دلائل دیے کہ درخواست گزار محمد اسماعیل 9 سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہے، ایک بھائی دبئی ہوتا ہے لیکن سالوں سے رابطہ نہیں ہے، جیل حکام کو حکم دیا جائے کہ واٹس ایپ کال کے ذریعے بھائی سے بات کروائی جائے۔عدالت نے تینوں کیسز میں جیل حکام کو جواب کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 27 اگست تک ملتوی کر دی۔