سیاسی اختلافات کی حد متعین کرنا ہوگی، تمام ادارے اپنی حدود میں رہیں، سعید غنی

کراچی(ویب ڈیسک) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں، عدالتوں، میڈیا اور ریاستی و قومی اداروں کو اپنی حدود متعین کرنا ہوں گی، سیاسی اختلافات جمہوریت کا حصہ ہیں تاہم اختلاف کی بھی ایک حد ہونی چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے مرکزی دفتر میں یومِ آزادی کے حوالے سے منعقدہ پرچم کشائی کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت، ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا، چیئرمین کورنگی ٹاو ¿ن محمد نعیم شیخ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر، کاٹی کے عہدیداران، سابق صدور اور ارکان نے قومی پرچم لہرایا جبکہ پاکستان کی سلامتی، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔سعید غنی نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 79 برس سے ہر سال یومِ آزادی بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ مناتا ہے تاہم معرکہ حق کے بعد قومی جوش و خروش میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو سال قبل تک عوام کے ذہنوں میں یہ سوال موجود تھا کہ اگر بھارت یا کوئی دوسرا ملک پاکستان پر حملہ کرے تو ملک کس طرح مقابلہ کرے گا، لیکن معرکہ حق میں پاک فوج، سیاسی جماعتوں اور عوام نے جس قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا، اس نے یہ ثابت کردیا کہ پاکستان ایک مضبوط اور مستحکم ملک ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد پاکستان کے بارے میں کمزوری کا تاثر ختم ہوا اور سفارتی محاذ پر بھی ملک مضبوط ہوکر سامنے آیا۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں سفارتی وفد نے دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستان کا مو ¿قف بھرپور انداز میں پیش کیا، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ مو ¿ثر انداز میں اجاگر ہوا۔انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستانی میڈیا کا کردار بھی قابلِ ستائش رہا جبکہ نوجوانوں نے جدید ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے ذریعے بھی اپنا کردار ادا کیا۔سعید غنی نے کہا کہ سیاسی اختلافات دنیا کے تمام جمہوری ممالک میں ہوتے ہیں اور یہ زندہ قوموں کی علامت ہیں، تاہم بدقسمتی سے پاکستان میں بعض اوقات اختلافات اپنی حدود سے تجاوز کرجاتے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں، عدالتوں، میڈیا اور ان اداروں کو جن کا قوم کی تشکیل میں کردار ہے، اپنی حدود کا تعین کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم میں تمام مشکلات، مسائل اور مصائب کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، تاہم معیشت کے استحکام کے لیے سازگار ماحول ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال سندھ حکومت نے وفاق کو 260 ارب روپے دیے ہیں، اگر صوبے کی سالانہ محصولات کی وصولی دگنی ہوجائے تو وفاق سے اپنے حصے کا مطالبہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ معرکہ حق کے بعد بھارت آئندہ صدیوں تک پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے سے پہلے کئی بار سوچے گا۔ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے قومی اتحاد اور اجتماعی ذمہ داری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *