عمان کے ساحل پر بحری جہاز سے تیل کا بڑا اخراج، سمندری حیات اور ماحول کو سنگین خطرہ تیل سے متاثرہ سمندری علاقہ ابتدائی طور پر تقریبا 390 مربع کلومیٹر,ماحولیاتی اتھارٹی عمان

مسقط( انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز ایجنسیاں)عمان کے سمندری علاقے پر پھنسے ایک آئل ٹینکر سے کئی ہفتوں سے جاری تیل کا اخراج  اب ساحل تک پہنچ چکا ہے جس سے ماحولیاتی تباہی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق عمان کی ماحولیاتی اتھارٹی کا کہنا تھا کہ تیل سے متاثرہ سمندری علاقہ ابتدائی طور پر تقریبا 390 مربع کلومیٹر تھا تاہم اب تیل کا پھیلاؤ 2000 مربع کلومیٹر سے تجاوز کر چکا ہے۔تیل کے پھیلا ؤسے عمان کے علاقے راس مدرکہ کے تقریبا 40 کلومیٹر ساحلی حصے کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ مصیرہ جزیرے کے 10 سے 20 کلومیٹر ساحلی علاقے تک بھی آلودگی پہنچ سکتی ہے۔تیل بردار جہاز کیرولین بیزینگی جون میں عمان کے ساحل سے تقریبا 41 کلومیٹر دور سمندر میں پھنس گیا تھا، جہاز کے عملے نے اس سے قبل دھماکوں کی اطلاع دی تھی، جہاز روس سے بھارت جا رہا تھا اور اس میں اندازا 800،000 بیرل تیل موجود تھا۔رپورٹس کے مطابق جہاز کئی ہفتوں تک عمان کے قریب پھنسے رہنے کے دوران مسلسل تیل خارج کرتا رہا جس کے نتیجے میں تیل کا پھیلا عمان کے ساحل کی جانب بڑھتا گیا۔اس وقت تیل کا بڑا حصہ جنوبی عمان کے قریب ہالانیات جزائر کے اطراف موجود ہے، یہ علاقہ حساس سمندری ماحولیاتی نظام کا حامل ہے اور گزشتہ سال یہاں نایاب سمندری حیات اور کچھوں کے تحفظ کے لیے سمندری محفوظ علاقہ قائم کیا گیا تھا۔عرب میڈیا کی رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق خام تیل کا اتنا بڑا اخراج سمندری حیات، ساحلی ماحولیاتی نظام اور ماہی گیری کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔ تیل سمندر کی سطح پر پھیل کر سمندری جانداروں، پرندوں اور کچھوں کو متاثر کرسکتا ہے جبکہ ساحلی علاقوں میں پہنچنے کے بعد ریت، چٹانوں اور دیگر قدرتی ماحول کو طویل عرصے تک آلودہ رکھ سکتا ہے۔ماحولیاتی تنظیم گرین پیس نے خبردار کیا ہے کہ یہ اخراج ایک بڑے ماحولیاتی بحران میں تبدیل ہونے کے قریب ہے۔ رپورٹ میں ماہرین نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جہاز میں موجود 800،000 بیرل تیل کا بڑا حصہ سمندر میں خارج ہونے کی صورت میں نقصان انتہائی سنگین ہوسکتا ہے۔برطانوی بحری سلامتی کمپنی کے مطابق جہاز کو جون کے آغاز میں یمن کے قریب سمندر میں حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے باعث جہاز کے مختلف حصوں میں پانی داخل ہو گیا تھا تاہم جہاز پر حملوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے دھماکوں کی سرکاری وجہ تاحال سامنے نہیں آئی اور کسی فریق نے حملے کی ذمے داری بھی قبول نہیں کی ہے۔ادھر اقوام متحدہ کے عالمی بحری ادارے نے کہا ہے کہ وہ تیل کے اخراج کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک اور تیل کے جہاز سے اخراج بھی قشم جزیرے تک پہنچ گیا ہے جہاں ساحلوں اور ماحولیاتی لحاظ سے حساس مینگروو جنگلات کے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عالمی بحری ادارے کے مطابق مارچ کے آغاز سے آبنائے ہرمز اور مشرق وسطی کے مختلف علاقوں میں بحری جہازوں سے متعلق 65 واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *