Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کوئٹہ( ویب ڈیسک) بلوچستان ہائی کورٹ میں یومِ آزادی پاکستان کے موقع پر ایک پروقار پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے عدالتِ عالیہ کے لان میں قومی پرچم لہرایا۔ تقریب میں بلوچستان ہائی کورٹ کے معزز ججز، افسران و اہلکاروں، وکلاء اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ 14 اگست محض ایک تاریخی دن نہیں بلکہ ایک نظریے، عہد اور قومی ذمہ داری کی تجدید کا دن ہے۔ پاکستان ہمارے اسلاف اور زعماء کی لازوال قربانیوں، غیر متزلزل ایمان، جدوجہد اور عزم و استقلال کے نتیجے میں وجود میں آیا، اس لیے اس کی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے کردار ادا کرنا ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ قوم کی اصل طاقت اتحاد، باہمی اعتماد، قومی یکجہتی اور مشترکہ مقصد کے حصول میں مضمر ہے۔ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے قومی یکجہتی، باہمی احترام اور اجتماعی ذمہ داری کے جذبے کو فروغ دینا ہوگا۔ قومی ترقی کی راہ میں اقربا پروری، خود غرضی اور ذاتی مفادات کی بجائے میرٹ، دیانت داری، قانون کی حکمرانی اور قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ آزادی کے حقیقی ثمرات کے حصول اور ایک مضبوط ریاست کی تعمیر کے لیے بحیثیت قوم ہمیں مزید کئی اہم سنگِ میل عبور کرنے ہیں۔ پارلیمان کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آئین کی پاسداری کو ہر صورت برقرار رکھنا ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، جبکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی مضبوط پاکستان کی بنیاد ہیں۔جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کہا کہ عدلیہ عوام کو بلاامتیاز انصاف کی فراہمی کے لیے اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی۔ عدلیہ کو قانون اور آئین کی روشنی میں بلاامتیاز انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو مزید مستحکم کرنے کے لیے عدالتی نظام میں موجود رکاوٹوں اور مشکلات کو دور کرنا ناگزیر ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کے ہر اول دستے کے طور پر ضلعی عدلیہ پر انصاف کی فراہمی کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جسے غیر جانب داری، دیانت داری اور بلاخوف و رعایت ادا کرنا ہوگا۔ عدالتوں سے رجوع کرنے والے سائلین انصاف کے حصول اور ناانصافی کے ازالے کی امید لے کر آتے ہیں، اس لیے ان کی داد رسی عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ وکلاء، عدلیہ اور انصاف کے نظام سے وابستہ تمام طبقات کو اپنی ذمہ داریاں غیر جانب داری، دیانت داری اور قانون کے مطابق ادا کرنی چاہئیں۔ قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کا بنیادی مقصد عوام کو ظلم، ناانصافی اور استحصال سے نجات دلانا اور انہیں بروقت انصاف فراہم کرنا ہے۔جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے مزید کہا کہ انصاف صرف فیصلے صادر کرنے کا نام نہیں بلکہ معاشرے کے تمام طبقات کو ان کے حقوق کی منصفانہ فراہمی یقینی بنانے کا تقاضا کرتا ہے۔ معاشرے سے ناانصافی کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب ہر فرد اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کرے اور دوسروں کے حقوق پامال کرنے سے گریز کرے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عدلیہ آئین اور قانون کی بالادستی، عوام کو بلاامتیاز انصاف کی فراہمی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا آئینی کردار بھرپور انداز میں ادا کرتی رہے گی۔تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی،