یا تو ہم کوئی معاہدہ کریں گے یا پھر کام تمام کر دیں گے۔ صدر ٹرمپ

{نیوز ڈسک }صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ایران کے 91 ملین (9 کروڑ 10 لاکھ) عوام کو جنگ سے متاثر نہیں کرنا چاہتے، اس لیے ان کی پہلی ترجیح سفارتی معاہدہ ہی ہے، لیکن ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ کے لیے ‘کام تمام کرنا’ یعنی فوجی کارروائی کرنا بالکل مشکل نہیں ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج ایک گھنٹے میں ایران کے پلوں اور انرجی سپلائی (توانائی کے بنیادی ڈھانچے) کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی وجہ سے امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات (جو پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہو رہے ہیں) عارضی طور پر رکے ہوئے ہیں۔ یہ مذاکرات 11 جولائی سے دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔

ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایرانی بحریہ کے جہازوں اور ایرانی فضائیہ کے تمام طیاروں کو تباہ کر دیا تھا۔ان کے بقول ’بالآخر انھیں (ایران) احساس ہو گیا کہ اب ان کے پاس کوئی ریڈار نہیں رہا، کیونکہ اُن کے ریڈار سسٹمز تباہ کر دیے گئے تھے۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *