ہزارہ صوبے کا مطالبہ مزید مؤخر نہ کیا جائے، معاملہ اسمبلیوں میں زیرِ غور ہے، سردار محمد یوسف

اسلام آباد۔4اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر مذہبی امور و چیئرمین ہزارہ صوبہ تحریک سردار محمد یوسف نے ہزارہ صوبے کے قیام کا مطالبہ مزید تاخیر کے بغیر پورا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے معاملہ خیبرپختونخوا اسمبلی اور قومی اسمبلی میں پہلے ہی زیر غور آچکا ہے۔اتوار کوہری پور میں سینیٹر طلحہ محمود کی میزبانی میں منعقدہ ہزارہ صوبہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الگ صوبے کا مطالبہ انتظامی بنیادوں پر ہے اور تحریک اب پارلیمانی و آئینی فورمز پر اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔سردار محمد یوسف نے کہا کہ ہزارہ صوبہ تحریک مضبوط ہے اور اس کا کیس تیار ہے،خیبرپختونخوا اسمبلی تین مرتبہ صوبے کے حق میں قراردادیں منظور کرچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مطالبے کو سیاسی قیادت کی حمایت حاصل ہے جبکہ ان کے بقول عسکری قیادت نے بھی نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ صوبے کے قیام کے بلز 2019 میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے ارکان کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ معاملہ اب اسمبلیوں کے اندر موجود ہے، ارکان پارلیمنٹ ہزارہ صوبے کے قیام کے لیے اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام تک انتظامی خدمات کی رسائی بہتر بنانے کے لیے سرکاری سہولیات کو لوگوں کے قریب لانا ضروری ہےجبکہ عوامی فلاح و بہبود سے متعلق معاملات میں تاخیرشہریوں میں مایوسی اور بے چینی کا باعث بن سکتی ہے۔اس موقع پرسینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ مستقبل کے ہزارہ صوبے کی معاشی بنیاد ہری پور ہوگا اور وسائل کی دستیابی سے متعلق خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں اپنی ضروریات پوری کرنے اور قومی معیشت میں کردار ادا کرنے کے لیے وافر وسائل موجود ہیں۔انہوں نے بے روزگاری اور مواقع کی کمی کو نوجوانوں میں پائی جانے والی مایوسی سے جوڑتے ہوئے موجودہ نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔سابق وفاقی وزیر مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ ہزارہ کے عوام ہزارہ کو شامل کیے بغیر نئے صوبوں کے قیام کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے نمائندے یہ معاملہ پہلے ہی پارلیمنٹ میں اٹھا چکے ہیں۔سابق وزیراعلیٰ پیر صابر شاہ نے کہا کہ ہزارہ کے عوام صوبے کے مطالبے پر متحد ہیں جبکہ جماعت اسلامی ہزارہ کے رہنما عبدالرزاق عباسی نے کہا کہ ان کی جماعت الگ صوبے کے قیام کی مکمل حمایت کرتی ہے۔بریگیڈیئر (ر) شہزاد اعوان نے کہا کہ ہزارہ میں ڈیمز سمیت قدرتی اور سیاحتی وسائل موجود ہیں تاہم ان کے بقول خطے کو ان وسائل سے مناسب فائدہ نہیں مل رہا۔تحریک کے کوآرڈینیٹر پروفیسر سجاد قمر نے کہا کہ ہزارہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں نمایاں حصے کا حق دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسائل پر زیادہ اختیار خطے کو اپنی ترقی کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے اور وفاق میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گا۔پرنس فضل حق اور سابق رکن اسمبلی نوابزادہ ولی محمد نے بھی مطالبے کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوہستان اور بٹگرام کے نمائندے تحریک کی حمایت جاری رکھیں گے۔کنونشن میں متعدد ارکان پارلیمنٹ، سابق وزراء، سیاسی رہنماؤں اور مذہبی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت اور خطاب کیا اور ہزارہ صوبے کے قیام کا مطالبہ دہرایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *