Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
لاہور( کلچرل ڈیسک)پاکستان فلم انڈسٹری کے صف اول کے ہدایتکار و پروڈیوسر سید شوکت حسین رضوی کی برسی (کل)19اگست کو منائی جائے گی۔سید شوکت حسین رضوی 1914 کو ہندوستان اتر پردیش کے علاقے اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کلکتہ میں اسسٹنٹ پراجیکشنسٹ کی حیثیت سے اپنے فنی کیریئرکا آغاز کیا۔ پھر انہوں نے فلم میکنگ سیکھی۔اس وقت کے نامور پروڈیوسر سیٹھ دل سکھ پنچولی انہیں کلکتہ سے لاہور لے آئے۔ یہاں انہوں نے کئی فلموں کی ایڈیٹنگ کی۔ ایڈیٹر کی حیثیت سے ان کی فلموں یملا جٹ اور دوست کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے بعد دل سکھ پنچولی نے انہیں اپنی اگلی فلم خاندان کی ہدایات کے فرائض سونپے۔ خاندان نے پورے ہندوستان میں تہلکہ مچا دیا۔ اس میں نور جہاں نے نہ صرف شائقین فلم کے دلوں کو فتح کرلیا بلکہ شوکت حسین رضوی کا دل بھی جیت لیا۔ خاندان کی کامیابی کے بعد شوکت حسین رضوی اور نور جہاں ممبئی چلے گئے ۔اسی سال نورجہاں اور شوکت حسین رضوی رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ ان کے ہاں تین بچے ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1944میں بننے والی فلم دوست میں شوکت حسین رضوی نے معاون اداکار کے طور پر کام کیا اور اس فلم میں وہ نور جہاں کے بھائی بنے تھے۔ اس فلم کی ہدایات بھی شوکت حسین رضوی نے دی تھیں۔1947میں تقسیم ہند کے بعد شوکت حسین رضوی اور نورجہاں اپنے تینوں بچوں سمیت پاکستان چلے آئے تھے۔ اس عرصے کے دوران شوکت حسین رضوی نے ملتان روڈ پر شاہ نور اسٹوڈیو قائم کیا،ان کے اپنی اہلیہ نورجہاں سے شدید اختلافات پیدا ہوگئے اور دونوں میں علیحدگی ہوگئی،جس سے شوکت رضوی کے کیریئر کو شدید دھچکا لگا کیونکہ وہ نور جہاں کے شوہر کی حیثیت سے بھی اہم مقام حاصل کرچکے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے اس وقت کی معروف اداکارہ یاسمین سے شادی کرلی جن سے ان کے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ نور جہاں سے طلاق کے بعد انہوں نے صرف تین اردو فلمیں بنائیں ۔دلہن رانی کے فلاپ ہونے کے بعد شوکت حسین رضوی نے فلموں سے ریٹائرمنٹ لے لی ۔ طویل علالت کے بعد 19اگست 1999 کو 85سال کی عمر میں دنیا فانی سے رخصت ہوگئے۔