گڈانی شپ یارڈ پر 8 سال بعد شپ ری سائیکلنگ کا عمل دوبارہ شروع 7 جہاز لنگرانداز

حب(ویب ڈیسک) بلوچستان کے گڈانی شپ یارڈ پر آٹھ سال بعد شپ ری سائیکلنگ کا عمل دوبارہ شروع ہو گیا ہے، جہاں شپ ری سائیکلنگ کے لیے سات جہاز لنگرانداز ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق اس پیش رفت کو پاکستان کی سمندری معیشت اور صنعتی شعبے کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔سرکاری اعلامیے کے مطابق میری ٹائم ٹاسک فورس میں شامل نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) اور دیگر متعلقہ اداروں کی مشترکہ کاوشوں سے گڈانی شپ یارڈ پر شپ ری سائیکلنگ کی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوئی ہیں، جو گزشتہ آٹھ برس سے تقریباً معطل تھیں۔حکام نے کہا کہ شپ ری سائیکلنگ کی صنعت کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری ہیں، جبکہ وفاقی حکومت اس شعبے کو باقاعدہ صنعتی درجہ دے چکی ہے۔ گڈانی کے شپ ری سائیکلنگ یارڈز کو بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے مقررہ اصولوں اور ہانگ کانگ کنونشن کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔اعلامیے کے مطابق گڈانی میں موجود 16 شپ ری سائیکلنگ یارڈز میں سے 9 کو ہانگ کانگ کنونشن کے تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی 7 یارڈز معائنے اور منظوری کے مرحلے میں ہیں۔حکومت کی جانب سے گڈانی میں جدیدٹریٹمنٹ، اسٹوریج اور ڈسپوزل (TSD) سہولت بھی قائم کی جائے گی، جس سے شپ ری سائیکلنگ کے دوران پیدا ہونے والے مضر مواد کو محفوظ انداز میں ٹھکانے لگانے کے ساتھ ساحلی ماحول اور سمندری حیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔حکام کے مطابق ری سائیکل ہونے والا ہر جہاز قومی معیشت میں تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر کا اضافہ کرے گا، جبکہ گڈانی شپ ری سائیکلنگ صنعت مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد ملک کی اسٹیل اسکریپ کی تقریباً 30 فیصدضرورت پوری کرنے کی صلاحیت رکھے گی۔ماہرین کے مطابق شپ ری سائیکلنگ صنعت کی بحالی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کی بلیو اکانومی کو بھی تقویت ملے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *