Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کوئٹہ(ویب ڈیسک)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سیکرٹری مالیات حاجی صالح محمد، مفتی رضا خان، حاجی ظفراللہ کاکڑ، میر سرفراز شاہوانی، میر حشمت لہڑی، سیٹھ اجمل بازئی، سالار مولوی علی جان، مولانا سید سعداللہ آغا اور مولوی نقیب اللہ ملاخیل نے کہا ہے کہ گندم کی قلت اور آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے معاملے پر حکومتی عدم توجہی اور خاموشی افسوسناک ہے۔ لگتا ہے حکمران بلوچستان کے عوام کو بارود اور گولیوں کے بعد بھوک اور افلاس سے بھی مارنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ گندم کی خودساختہ قلت پیدا کرکے عوام کو دو وقت کی روٹی کا محتاج بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نااہل اور کرپٹ صوبائی حکومت کے وزراء علی بابا چالیس چوروں کا ایسا ٹولہ بن چکے ہیں جو عوام کا خون پسینہ نچوڑ رہا ہے۔ دیہاڑی دار مزدور، کم آمدنی والے افراد اور سفید پوش خاندان انواع و اقسام کے کھانوں کی نہیں بلکہ اب دو وقت کی سوکھی روٹی کی فکر میں مبتلا ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ عوام کو اشیائے خورونوش کی مناسب اور مستحکم قیمتوں پر فراہمی یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن گندم کی قلت اور آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے معاملے پر حکومتی عدم توجہی اور خاموشی افسوسناک ہے۔ عوامی مسائل کے حل کے بجائے انتظامی غفلت اور بدانتظامی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر گندم و آٹے کی قلت کے پس پردہ مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری کا عنصر موجود ہے تو حکومت بلاامتیاز کارروائی کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائے۔ حکومت فوری طور پر گندم کی دستیابی یقینی بنائے آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرے اور غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات اٹھائے۔