کے ایم سی کی ترقیاتی اسکیموں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ ایم کیو ایم رہنما طحہٰ احمد خان کا وزیراعلیٰ سندھ کو خط،

کراچی (ویب ڈیسک)سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طحہٰ احمد خان نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی ترقیاتی اسکیموں میں مبینہ انتظامی، مالی اور ٹینڈرنگ بے ضابطگیوں کی فوری اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔طحہٰ احمد خان نے وزیراعلیٰ سندھ کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ کے ایم سی کی صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت جاری 188 ترقیاتی اسکیموں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 7.5 ارب روپے ہے، میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق معاملات سامنے آئے ہیں، جن کی فوری تحقیقات ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوامی وسائل سے جاری ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ کراچی کے شہریوں کے لیے مختص فنڈز درست طریقے سے استعمال ہوں اور ترقیاتی منصوبوں کے مطلوبہ نتائج حاصل ہوسکیں۔ایم کیو ایم رہنما نے خط میں نشاندہی کی کہ مالی سال 2026-27ء  کے دوران تقریباً 65 ترقیاتی اسکیموں کے لیے 15 سے 16 ارب روپے مالیت کے ٹینڈرز کیے جانے ہیں، اس لیے ان منصوبوں کے ٹینڈرنگ عمل میں شفافیت، میرٹ اور قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکوں کی منظوری میں مبینہ مداخلت اور مخصوص ٹھیکیداروں کو ترجیح دینے سے متعلق شکایات کی بھی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔طحہٰ احمد خان نے وزیراعلیٰ سندھ پر زور دیا کہ کے ایم سی کی تمام جاری اور آئندہ ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ منصوبوں کی منظوری، ٹینڈرنگ اور ٹھیکوں کی الاٹمنٹ میں کسی قسم کی جانبداری یا مداخلت نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کے لیے مختص عوامی وسائل کا تحفظ صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، جبکہ ترقیاتی عمل میں شفافیت نہ صرف قومی خزانے کے تحفظ بلکہ شہریوں کے اعتماد کے لیے بھی ضروری ہے۔ایم کیو ایم رہنما نے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کے ایم سی کی ترقیاتی اسکیموں میں سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات کرائیں اور آئندہ ترقیاتی منصوبوں میں قانون، میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *