کوہاٹ حملہ: آپریشن مکمل، آٹھ عسکریت پسند مارے گئے، اموات 23 ہوگئیں

کوہاٹ (ویب ڈیسک)خیبرپختونخوا پولیس نے ہفتے کو بتایا ہے کہ کوہاٹ کی پولیس لائنز میں جمعے کو مسجد میں خودکش دھماکے کے بعد حملہ آوروں کے خلاف کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، جس میں آٹھ عسکریت پسند مارے گئے جبکہ 16 پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 23 افراد جان سے جا چکے ہیں۔گذشتہ روز نماز جمعہ کے وقت کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد میں خودکش حملے کے بعد مسلح حملہ آور پولیس لائنز میں داخل ہوئے، جن کے خلاف سکیورٹی فورسز نے آپریشن کا آغاز کیا۔پولیس کا یہ کمپاؤنڈ ضلعی سطح کے پولیس ہیڈ کوارٹر کے طور پر کام کرتا ہے، جہاں کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، سپیشل برانچ اور پولیس کے کئی دیگر یونٹس کے اہم دفاتر واقع ہیں۔ہفتے کو پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایلیٹ فورس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور سکیورٹی فورسز نے رات بھر جاری رہنے والی کارروائی کے بعد پولیس لائنز کی عمارت کے اہم حصے کلیئر کر لیے ہیں۔پولیس کے مطابق: ’کارروائی کے دوران مجموعی طور پر آٹھ دہشت گرد جان سے گئے۔‘پشاور سینٹرل پولیس آفس کے ترجمان عبد السلام خالد نے انڈپینڈنٹ اردو کی نمائندہ لائبہ حُسن کو بتایا کہ کوہاٹ حملے میں اب تک 16 پولیس اہلکاروں سمت 23 افراد جان سے گئے جبکہ 130 سے زائد افراد زخمی ہیں۔جمعے کی رات گئے کوہاٹ کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ واقعے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں بڑی اکثریت پولیس اہلکاروں کی ہے اور کئی کی حالت تشویش ناک ہے۔تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک دھڑے اور مقامی عسکریت پسند گروپ اتحاد المجاہدین پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔اے ایف پی کی تصاویر میں حملے کے بعد فوجی اہلکاروں کو اینٹوں کے ڈھیر، ملبے اور تباہ شدہ دیواروں کے پاس کھڑے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ اسالٹ رائفلز اٹھائے فوجی کمپلیکس کی نگرانی کر رہے ہیں۔پولیس کمپاؤنڈ کے قریب ایک سڑک پر کئی ایمبولینسیں قطار میں کھڑی دیکھی گئیں۔پاکستان نے خیبر پختونخوا اور جنوبی سرحدی صوبے بلوچستان میں حملوں میں اضافے کی وجہ افغانستان سے ابھرنے والی عسکریت پسندی کو قرار دیا ہے، جبکہ طالبان حکومت افغان شمولیت کی تردید کرتی ہے۔ان الزامات نے پڑوسی ممالک کے درمیان شدید کشیدگی اور مسلح تصادم کو جنم دیا ہے اور پاکستان نے جان لیوا فضائی حملے کیے ہیں جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان میں افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *