ڈیفنس تشدد کیس میں 3 ملزمان کی عبوری ضمانت مسترد، 2 عدالت سے فرارعلی جعفری پر تشدد کے مقدمے میں عدالت کا فیصلہ

کراچی (ویب ڈیسک) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے ڈیفنس میں نوجوان علی جعفری کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں 3 ملزمان کی عبوری ضمانتیں مسترد کردیں، جس کے بعد 2 ملزمان ابراہیم اور علی فیصل عدالت سے فرار ہوگئے، جبکہ تیسرے ملزم ارتضیٰ کی عبوری ضمانت عدم حاضری کے باعث منسوخ کردی گئی۔عدالت نے مقدمے کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ ملزمان مقدمے میں نامزد ہیں اور ان کے کردار کا حتمی تعین تفتیش کے بعد کیا جائے گا۔ مدعی مقدمہ کی جانب سے ایڈووکیٹ طلحہٰ بلوچ عدالت میں پیش ہوئے۔عدالتی فیصلے میں بتایا گیا کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے موبائل فون برآمد ہوئے ہیں، جن میں مبینہ طور پر تشدد کے واقعات کی ویڈیوز موجود ہیں۔ عدالت کے مطابق موبائل فون میں موجود ویڈیوز بھی مقدمے کی تفتیش میں اہم شواہد ہوسکتی ہیں، تاہم ملزمان کے کردار کا حتمی تعین تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوئے، جس کے باعث ان سے مقدمے کے حوالے سے تفتیش نہیں ہوسکی۔ عدالت نے مقدمے کے موجودہ شواہد اور تفتیشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمان کی عبوری ضمانت مسترد کردی۔پولیس کے مطابق نوجوان علی جعفری پر مبینہ تشدد کے الزام میں ملزمان کے خلاف تھانہ ساحل میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ عدالت کی جانب سے عبوری ضمانتیں مسترد ہونے کے بعد فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری بھی پولیس کے لیے اہم مرحلہ بن گئی ہے۔عدالتی کارروائی کے دوران یہ امر بھی سامنے آیا کہ گرفتار ملزمان سے برآمد موبائل فونز میں موجود ویڈیوز کی روشنی میں واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ پولیس کو ملزمان کے کردار اور واقعے میں ان کے مبینہ کردار سے متعلق شواہد جمع کرنے ہیں، جس کے بعد مقدمے کی تفتیش مزید آگے بڑھے گی۔تیسرے ملزم ارتضیٰ کی جانب سے عدالت میں حاضری نہ ہونے پر اس کی عبوری ضمانت بھی منسوخ کردی گئی۔ عدالت کے فیصلے کے بعد مقدمے میں نامزد تینوں ملزمان کو عبوری ضمانت کا ریلیف حاصل نہیں رہا، جبکہ 2 ملزمان کے عدالت سے فرار ہونے کے واقعے نے مقدمے کی آئندہ کارروائی میں نئی صورت حال پیدا کردی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *