ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی امریکی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن سے ملاقات، ادارہ جاتی اور پارلیمانی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور

اسلام آباد/کوئٹہ(ویب ڈیسک) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے امریکی سفارتخانے اسلام آباد کی ڈپٹی چیف آف مشن (نائب سربراہِ مشن) نتالی بیکرسے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی سفارت کاری، علاقائی امن و استحکام، دہشت گردی کے خلاف تعاون، افغانستان کی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی ادارہ جاتی روابط کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو پارلیمان، حکومت، کاروباری برادری، سول سوسائٹی اور عوامی سطح پر مسلسل اور بامعنی روابط کے ذریعے مزید مستحکم بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور دیرپا تعاون کی بنیاد پہلے سے موجود ہے، جسے مزید مضبوط بنانے کے لیے مسلسل سیاسی، پارلیمانی اور سفارتی شمولیت ضروری ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امریکہ کے ساتھ باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ دونوں ممالک کی پارلیمانیں عوامی نمائندگی کا اہم ادارہ ہونے کے ناطے دوطرفہ تعلقات میں پل کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک مستقل بین الپارلیمانی گروپ (آئی پی جی) کے قیام کی تجویز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے فورم کا مقصد محض وفود کے دورے یا رسمی ملاقاتیں نہیں بلکہ مسلسل پارلیمانی سفارت کاری، ادارہ جاتی مکالمہ، پالیسی تبادلہ اور قابلِ پیمائش نتائج کا حصول ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ پارلیمانی گروپ کے ذریعے امریکی کانگریس اور پاکستانی پارلیمان کے درمیان باقاعدہ اور مسلسل رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے، جس کے تحت مشترکہ مفادات کے حامل امور پر پالیسی مکالمہ، باقاعدہ ملاقاتیں، تجربات کا تبادلہ اور فالو اپ نظام وضع کیا جائے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے دہشت گردی کے چیلنج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ چیلنج ہے جس کے تدارک کے لیے  تجربات کا تبادلہ مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ملک کے عوام، بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام، نے امن کے قیام کے لیے بھاری قیمت ادا کی ہے۔افغانستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام پاکستان  پورے خطے کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن صرف افغانستان کے عوام کے لیے ہی نہیں بلکہ پاکستان، امریکہ اور پورے خطے کے لیے امن، تجارت، اقتصادی ترقی اور علاقائی رابطہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔موجودہ علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری، تحمل اور پرامن ذرائع سے تنازعات کے حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار علاقائی ملک کی حیثیت سے کشیدگی میں کمی، سفارتی رابطوں اور باعزت سیاسی حل کی کوششوں کی حمایت جاری رکھ سکتا ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاک–امریکہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اقتصادی اور تجارتی تعاون کو بھی مرکزی اہمیت دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری، پاکستانی مصنوعات کے لیے امریکی مارکیٹ تک بہتر رسائی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، کاروباری جدت اور نجی شعبے کے درمیان روابط دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفادات پر مبنی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے درمیان روابط بڑھانے کے لیے پارلیمانی سطح پر بھی سہولت کاری کی جا سکتی ہے، تاکہ اقتصادی تعلقات کو سیاسی اور سفارتی روابط کے ساتھ مزید مربوط کیا جا سکے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے عوام کے درمیان تعلقات دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے پاکستانی نڑاد امریکی کمیونٹی کو دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم پل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی نڑاد امریکی شہری اقتصادی، تعلیمی، سیاسی اور سماجی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان روابط کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔امریکی ڈپٹی چیف آف مشن نے پاک–امریکہ تعلقات کے فروغ میں پارلیمانی روابط کی اہمیت کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون، اقتصادی روابط، عوامی سطح پر رابطوں کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت سے اتفاق کیا۔ملاقات  میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان پارلیمانی، سفارتی، اقتصادی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید فروغ دینے کے لیے باقاعدہ اور مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے گا، جبکہ مشترکہ مفادات کے حامل شعبوں میں تعاون کو عملی اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *