ڈارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر مبینہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں: بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی

ایران ،ویب ڈیسک ،بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے ایران کے علاقے ڈارخوین میں زیرِ تعمیر مجوزہ جوہری بجلی گھر کی تعمیراتی سائٹ پر رات گئے ہونے والے مبینہ حملے کی رپورٹس کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ایجنسی کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ تنصیب ابھی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں ہے اور آئی اے ای اے کے آخری معائنے کے وقت وہاں کوئی جوہری مواد موجود نہیں تھا۔آئی اے ای اے نے کہا ہے کہ ’مبینہ حملے سے تابکاری کے کسی خطرے کا امکان نہیں ہے۔‘ تاہم ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل ماریانو گروسی نے تمام جوہری تنصیبات کے اطراف فوجی کارروائیوں میں تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کو دہرایا ہے۔تاہم ایران کی جوہری توانائی تنظیم نے ملک کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں زیرِ تعمیر ڈارخوین جوہری بجلی گھر پر امریکی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں ادارے نے کہا کہ ’امریکی انتظامیہ نے مقامی وقت کے مطابق رات تین بج کر 39 منٹ کے قریب اس جوہری تنصیب پر حملہ کر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی۔بیان میں ڈارخوین جوہری بجلی گھر کو ’ایرانی قوم کے وقار اور سائنسی خود کفالت کی علامت‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’دشمن نے زیرِ تعمیر منصوبے کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد پروجیکٹائل استعمال کیے۔ایرانی ادارے کے مطابق ’امریکہ نے گزشتہ ایک سال کے دوران بین الاقوامی نگرانی کے تحت کام کرنے والی ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر متعدد حملے کیے ہیں، جو واشنگٹن کی جانب سے اسرائیلی حکومت کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جنگ کا حصہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *