چیٹ جی پی ٹی کے مشوروں نے ایک شہری کو موت کے قریب پہنچا دیا

نیویارک(ویب ڈیسک )طبی مشورے فراہم کرنے میں مصنوعی ذہانت پر انحصار کے خطرات سے متعلق سالہا سال کی تنبیہات کے بعد اوپن اے آئی کمپنی کو اپنی نوعیت کے پہلے قانونی امتحان کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ یہ کیس ایک ایسے مقدمے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی پر گمراہ کن طبی مشورے دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کے مشوروں کے باعث ایک امریکی شہری نے علاج کی طلب میں تاخیر کردی اور بعد میں اسے صحت کے ایسے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑا جو اس کی جان لے سکتا تھا۔ ظاہری طور پر یہ پہلا ایسا مقدمہ ہے جس میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ کسی چیٹ بوٹ کے مشوروں نے کسی ایسے شخص کو نقصان پہنچایا جو اپنی طبی حالت کے بارے میں رہنمائی کا طالب تھا۔ اخبار نے وضاحت کی ہے کہ فلوریڈا ریاست کے ایک پادری سکاٹ ونٹرز نے گزشتہ بدھ کو ایک قانونی دعوی دائر کیا ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے انہیں انسان کی جان کے لیے انتہائی خطرناک طبی سفارشات فراہم کیں جس کی وجہ سے ان سے پھیپھڑوں کے پلمونری ایمبولزم کا بروقت علاج کرانے میں تاخیر ہوگئی۔ اس صورت حال نے گزشتہ سال ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے پادری سکاٹ ونٹرز کو یہ اطمینان دلایا کہ ان کے صحت کے بحران کی ابتدائی علامتیں کوئی سنگین معاملہ نہیں ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی نے انہیں طبی مشورہ لینے سے باز رکھا اور اس کے بجائے ان سے یہ کہا کہ وہ اس بات پر بھروسہ رکھیں کہ خدا نے آپ کے جسم کو ایسا نہیں بنایا کہ وہ آپ کو مسلسل دھوکہ دے۔مزید برآں سان فرانسسکو میں کیلیفورنیا کی سپریم کورٹ میں دائر کیے گئے اس مقدمے میں OpenAI کمپنی اور اس کے سی ای او سیم آلٹمین پر غفلت اور غیر مجاز طبی مشق کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی میں شامل کی گئی حفاظتی تدابیر نے قابل اعتماد طریقے سے کام نہیں کیا۔ یہ چیٹ بوٹس صحت کے متعلق سوالات پوچھنے والے صارفین کو ماہرین سے رجوع کرنے کی ترغیب دینے اور کسی طبی بحران کے واضح اشارے ظاہر ہونے پر گفتگو ختم کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے۔امریکی پادری اور غیر منافع بخش تنظیم ٹیک جسٹس لا نے کمپنی سے مالی ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ سروس کی فعال سرگرمیوں کو اس وقت تک روکنے کی درخواست بھی کی ہے جب تک کہ آزاد ادارے اس کے محفوظ ہونے کی تصدیق نہ کر دیں۔ انہوں نے یہ درخواست بھی کی ہے کہ ایسی سخت پابندیاں عائد کی جائیں جو چیٹ جی پی ٹی کو طبی تشخیص یا علاج کے منصوبوں سے متعلق جوابات دینے سے روک دیں۔اس کے علاوہ، یہ مقدمہ اس ماہ دائر کیے گئے ایک اور مقدمے کے ساتھ ہی سامنے آیا ہے۔ اس مقدمے میں چیٹ جی پی ٹی پر 29 سالہ ایک جوان ماں کو گاڑیوں کے سامنے چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے پر اکسانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ خاتون کے خاندان نے دعوی کیا تھا کہ چیٹ بوٹ نے ان کی طویل گفتگو کے دوران اس کے مذہبی وہم و گمان کی آبیاری کی ۔ اس وہم نے موت کو خوبصورت اور رومانوی بنا کر پیش کرتے ہوئے اسے خودکشی کی طرف دھکیل دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *