Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کوئٹہ(ویب ڈیسک) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پورٹ قاسم میں 400 ایکڑ پر محیط اپیرل زون کے قیام کا منصوبہ پاکستان کی برآمدی معیشت، صنعتی ترقی اور روزگار کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد ملازمتیں پیدا ہونے اور سالانہ تقریباً 2.2 ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے میں صرف مصنوعات کی تیاری تک محدود رہنے کے بجائے ویلیو ایڈیشن، ڈیزائن، برانڈنگ، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی مارکیٹنگ کی جانب بڑھنا ہوگا۔ پورٹ قاسم اپیرل زون اس سلسلے میں پاکستان کو عالمی ویلیو چین میں زیادہ مضبوط مقام دلانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ منصوبے کی سب سے بڑی اہمیت اس سے پیدا ہونے والے روزگار کے وسیع مواقع ہیں۔ ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد براہِ راست ملازمتوں کے علاوہ خام مال، پیکیجنگ، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، گودام، خوراک، رہائش اور دیگر معاون شعبوں میں بھی بڑے پیمانے پر بالواسطہ روزگار پیدا ہوگا۔ خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کے لیے ہنرمند اور نیم ہنرمند ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ تربیتی پروگراموں کے ذریعے ملکی صنعتی افرادی قوت کی مہارت میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سالانہ تقریباً 2.2 ارب ڈالر کی ممکنہ برآمدات ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمانے، تجارتی خسارہ کم کرنے اور روپے پر دباؤ میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ ایسے منصوبے پاکستان کی برآمدات میں تنوع پیدا کرنے اور صنعتی پیداوار کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ پورٹ قاسم کا انتخاب بھی اس منصوبے کی اہمیت بڑھاتا ہے، کیونکہ یہاں پہلے ہی وسیع صنعتی اور بندرگاہی انفراسٹرکچر موجود ہے اور صنعتی کمپلیکس میں سینکڑوں صنعتی و تجارتی یونٹس کام کر رہے ہیں یا زیرِ تعمیر ہیں۔ اس موجودہ انفراسٹرکچر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپیرل زون کو ایک مکمل اور مربوط صنعتی مرکز میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ منصوبے کی کامیابی محض اعلان تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کی بروقت تکمیل، سستی اور قابلِ اعتماد بجلی، پانی، گیس، جدید انفراسٹرکچر، ہنرمند افرادی قوت اور عالمی معیار کی پیداوار کو یقینی بنانا ہوگا۔ سرمایہ کاروں کو بھی طویل المدتی اور مستقل پالیسی ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا کہ پورٹ قاسم اپیرل زون پاکستان کی صنعتی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر اس منصوبے کو شفافیت، سرمایہ کاری کے سازگار ماحول، مستقل پالیسیوں اور مؤثر نگرانی کے ساتھ مکمل کیا گیا تو یہ نہ صرف لاکھوں خاندانوں کے معاشی حالات بہتر بنانے میں مدد دے گا بلکہ پاکستان کو عالمی گارمنٹس مارکیٹ میں زیادہ مسابقتی مقام دلانے، برآمدات بڑھانے اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے کو مستقبل کی برآمدی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے اس منصوبے کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے تاکہ پاکستان خام مال اور کم ویلیو مصنوعات کے بجائے اعلیٰ معیار کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات برآمد کرکے زیادہ زرمبادلہ حاصل کرسکے۔